بارے میں اپنی امت کو قرآن کا یہ فرمان بار بار سُنایا ہے کہ
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ (1)
یعنی اے محبوب! آپ لوگوں کو سناد یجئے کہ کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے نفع اٹھانے کے لیے پیدا فرمائی اور کون ہے جو حلال اور پاکیزہ رزق کو حرام ٹھہرائے
بہر حال ہر قسم کے آرام و راحت کے سامانوں کو بشرطیکہ وہ حلال اور جائز ہوں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو اس کے استعمال کرنے اور اس سے نفع اُٹھانے کی اجازت دی ہے۔لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ہر قسم کا سامانِ راحت رکھنا اور برتنا جائز ہے ۔بس شرط یہی ہے کہ وہ حلال اور جائز ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
جنت کی گارنٹی
حدیث :۲۵
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِضْمَنُوْا لِیْ سِتًّا مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَضْمَنْ لَکُمُ الْجَنَّۃَ اُصْدُقُوْا اِذَا حَدَّثْتُمْ وَاَوْفُوْا اِذَا وَعَدْتُمْ وَاَدُّوْا اِذَا اءتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ وَغُضُّوْا اَبْصَارَکُمْ وَکُفُّوْا اَیْدِیْکُمْ۔ (2) (مشکوٰۃ،باب حفظ اللسان،ص۴۱۵)
ترجمہ : حضرت عُبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لو گ اپنی طرف سے میرے لیے چھ چیزوں کی ذمہ داری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنزا لایمان:تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندو ں کے لیے نکالی
اور پاک رزق۔(پ۸،الاعراف:۳۲ )
2…مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۷۰،ج۲،ص۱۹۷