یقینا یہ (مسکین )لوگ مالداروں سے چالیس برس پہلے جنّت میں داخل ہوجایئں گے،اے عائشہ !تومسکین کوخالی ہاتھ مت لوٹادے کچھ نہ ہو تو کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دیدے، اے عائشہ ! تو مسکینوں سے محبت کر اور ان کو اپنے قرب میں جگہ دے تو اللہ تعالیٰ تجھ کو قیامت کے د ن اپنا قرب عطا فرمائیےگا۔
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جذبۂ محبت میں میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہکُنْ فِی الدُّ نْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ وَعُدَّ نَفْسَکَ فِیْ اَہْلِ الْقُبُوْرِ(1) (مشکوۃ، باب الامل و الحرص، ص ۴۵۰)
تم دنیا میں ایک پردیسی کی طرح رہو بلکہ ایک راستہ چلنے والے مسافر کی طرح رہو اور اپنی ذات قبر والوں (مُردوں ) میں سے شمارکرو۔
مطلب یہ ہے کہ پردیسی آدمی یا راستہ چلنے والا مسافر جس طرح بہت ٹھاٹھ باٹھ اور سازوسامان سے گِراں بار نہیں ہوتا اور پردیس یا راستہ سے کوئی زیادہ دلچسپی اور لگاؤ نہیں رکھتا اسی طرح تم بھی دُنیا کے سازوسامان سے زیادہ تعلق اور قلبی لگاؤ مت رکھو۔
{۵} واضح رہے کہ جن خاص خاص صحابہ کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مسکینوں کی زندگی بسر کرنے کا حکم دیا یہ کوئی وجوبی حکم نہیں تھا بلکہ یہ استحبابی حکم تھا ۔یہ حضور رحمت ِعالَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا کمالِ کرم ہے کہ خود تو مسکینوں کی زندگی گزاری مگر اپنی اُمّت کو ہر قسم کی حلال راحتوں اور جائز سازوسامان رکھنے کی اجازت عطا فرمائی اور اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب الامل والحرص، الحدیث:۵۲۷۴، ج۲،ص۲۵۹