اور زمانے کے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہیں، عالَم ِآخرت کو جاتے ہوئے یہ عالَم ِدنیا ایک سایہ دار درخت کی طرح راستے میں مل گیا ہے اس سائے میں چند دن بیٹھ کر پھر اس کو چھوڑ کر اپنی منزل مقصود یعنی عالَم ِآخرت کی طرف روانہ ہوجانا ہے تو جس طرح سائے دار درخت کے سائے میں بیٹھنے والا مسافر نہ وہاںپلنگ بچھاتا ہے نہ بچھونا بچھاتا ہے نہ مکان بناتا ہے نہ کوئی عیش و آرام کا سامان کرتا ہے اسی طرح میں بھی اس دنیا میں بجز بقدر ضرورت سامان کے عیش و آرام کا کوئی ساز و سامان پسند نہیں کرتا ۔
{۳}حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو امیرانہ زندگی بالکل ہی پسند نہیں تھی۔بار بار فرمایا کرتے تھے کہ میں کوئی بادشاہ نہیں ہو ںکہ میں بادشاہوں کی طرح زندگی بسر کروں۔ میں تو خدا کا رسول ہوں اور خدا کا بندہ ہوں ،میں ایک بندے کی طرح کھاتا ہوں ، ایک بندے کی طرح اُٹھتا بیٹھتا ہوں ،ایک بندے کی طرح زندگی بسر کرتا ہوں ۔
{۴}آپ کو مسکینوں کی زندگی سے بے حد محبت تھی۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ آپ اس طرح دعا مانگا کرتے تھے کہ’’اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَّاَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَّاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنَ‘‘یااللہ! تو مجھ کو ایک مسکین کی زندگی عنایت فرما اور ایک مسکین کی موت عطا فرما اور مسکینوں کی جماعت میں میرا حشر فرما۔
یہ دُعاسن کر اُمُّ المؤمنین حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صبر نہ کرسکیں اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آپ اس طرح کی دعا کیوںمانگ رہے ہیں ؟ تو ارشاد فرمایا :اِنَّھُمْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ اَغْنِیَاء ھِمْ بِاَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا یَا عَاءشَۃُ! لَا تَرُدِّی الْمِسْکِیْنَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ یَاعَاءشَۃُ اَحِبِّی الْمَسَاکِیْنَ وَ قَرِّبِیْھِمْ فَاِنَّ اللّٰہَ یُقَرِّبُکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (1)(مشکوۃ، باب الفقراء ،ص ۴۴۷)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب فضل الفقراء۔۔۔الخ، الحدیث:۵۲۴۴، ج۲،ص۲۵۵