Brailvi Books

منتخب حدیثیں
171 - 243
عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  ایک چٹائی پر سو کر جب اُٹھے تو آپ کے جسم مبارک پر چٹائی کا نشان پڑگیا تھا تو عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاش! آپ ہم لوگوں کو حکم فرماتے کہ ہم لوگ آپ کے لیے بچھونا بچھا دیتے اور آپ کی راحت کا سامان کردیتے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا مطلب میری اور دنیا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سایہ میں  (کچھ دیر )بیٹھ جاتا ہے پھر اُس درخت کو چھوڑ کر چل دیتا ہے۔
فوا ئدو مسائل:{۱} اس حدیث کو امام احمد اور امام ترمذی اور امام ابن ما  جہ نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں  ذکر کیا ہے۔
{۲}اس حدیث میں  حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کی دنیا سے بے رغبتی،عیش و آرام سے نفرت اور مُتَواضِعانہ زندگی کی ایک ایسی تصویر نظر آتی ہے کہ اس کے تصور ہی سے ہم دنیا داروں کے قلب پرچوٹ لگتی ہے کہ اللہ اللہ!دونوںعالم کے سردار،محبوب پروردگار، حضور احمدِ مختار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  ایک کُھرّی ،کھردری چٹائی پر بغیر بچھونے کے سوتے تھے یہاں تک کہ چٹائی کی تیلیوں سے محبوبِ خدا کے جسمِ نازک پر نشان پڑ جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اس روح فَرْسا منظر کی تاب نہ لاسکے، بلبلا اُٹھے اور چٹائی پر بچھونا بچھادینے کی تمنا ظاہر کی تو شہنشاہ ِ کونین کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ مجھ کو دنیا کے عیش و آرام سے کیا مطلب اور مجھے دنیا سے کیا تعلق میری دُنیاوی زندگی کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کوئی سوارسفر میں  اپنی منزلِ مقصود کی طرف جارہا ہے راستے میں  کوئی سایہ دار درخت مل گیا تو وہ تھوڑی دیر کے لیے اس درخت کے سایہ میں  بیٹھ گیاپھر اس درخت کو چھوڑ کر چل دیا ۔یہی مثال دنیا کی ہے کہ ہم سب عالَم ِآخرت کے مسافر ہیں