یہ اہتمام فرمایا کہ کسی قاری یا حافظ کے لیے خاص طور پر مسجد نبوی میں منبر بچھایا ہو اور وہ قاری یا حافظ جب قرآن پڑھ رہا ہو تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو یہ فرما کر داد دی ہو کہ جبریل علیہ السلام اس کی مدد کررہے ہیں ۔
{۲} مجھے امید ہے کہ اگر یہ لوگ بخاری کی اس حدیث کو دیدۂ عبرت سے دیکھیں گے اور ان میں نورِ سعادت کی ادنیٰ سی کرن بھی ہوگی تو ان شاء اللہ تعالیٰ ان کے سینوں کے بند دروازے کھل جایئں گے اور وہ میلاد شریف اور نعت خوانی کی اہمیت کا اعتراف کرکے یا تو خود بھی ان محفلوں کو سنت سمجھ کر ان میں شرکت کرنے لگیں گے یا کم از کم ان محفلوں کی بُراءی اور مذاق اڑانا چھوڑ دیں گے اور اگر خدانخواستہ ان کے دلوں پر شقاوت کی مہر ہی لگ چکی ہوگی جب تو یہ حدیث کیا پوری حدیثوں کے دفتر اور پورا قرآن بھی ان کے لیے ذریعہ ہدایت نہیں بن سکتا ؎
تہی د ستانِ قسمت راچہ سود از رہبر کامل کہ ’’خضر‘‘از حیواں تشنہ می آرد سکندر را
دُنیا نگاہِ نُبُوَّت میں
حدیث :۲۴
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَامَ عَلٰی حَصِیْرٍ فَقَامَ وَقَدْ اَثَّرَ فِیْ جَسَدِہٖ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَوْ اَمَرْتَنَا اَنْ نَبْسُطَ لَکَ وَنَعْمَلَ فَقَالَ: مَا لِیْ وَلِلدُّنْیَا وَمَا اَنَا وَالدُّنْیَا اِلَّا کَرَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَ تَرَکَہَا۔ (1) (مشکوٰۃ،کتاب الرقاق،ص۴۴۲)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،الفصل الثانی، الحدیث:۵۱۸۸، ج۲،ص ۲۴۷