حضرت حسّان بن ثابت:یہ دربارِ رسالت کے خاص الخاص شاعر اور مداحِ رسول ہیں ۔ ان کی کنیت ابوالولید ہے ان کے والد کا نام ’’ثابت ‘‘اور ان کے دادا کانام ’’منذر ‘‘ اور پر دادا کا نام’’حرام ‘‘ہے۔ اور ان چاروں کے بارے میں ایک تاریخی لطیفہ ہے کہ ان چاروں کی عمریں ایک سو بیس برس کی ہوئیں جو عجاءبات عالم میں سے ہے۔(1)(حاشیہ بخاری بحوالہ کرمانی،ج۲،ص۵۹۴)
حضرت حسّان کی ایک سو بیس برس کی عمر میں سے ساٹھ برس جاہلیت میں اور ساٹھ برس اسلام میں گزرے ۔یہ اَنصار کے قبیلہ ’’خزرج‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ شُعراء عرب میں بہت مشہور ہیں بلکہ ’’اَبو عُبَیْدہ‘‘نے یہاں تک فرمایا کہ عرب کے شہری شاعروں میں یہ سب سے اُونچے درجہ کے شاعر ہوئے ہیں ۔امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ۴۰ھ سے قبل آپ کی وفات ہوئی۔ (2)(اکمال)
فوا ئدو مسائل:{۱}یہ بخاری شریف کی حدیث ہے ۔یہ حدیث اُن وہابیوں اور دیو بندیوں کے لیے تازیانہ عبرت ہے جو ہم سنیوں کی محفلِ میلاد شریف یا نعت خوانی کی مجالس کا مذاق اڑاتے ہیں اور ہم پر پھبتیاں کَسْتے رہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ لوگ جتنی دیر تک میلاد شریف پڑھتے یا نعت خوانی کرتے رہتے ہیں اتنی دیر تک قرآن شریف کی تلاوت کریں ۔ہم کہتے ہیں کہ تلاوتِ قرآن کے اجر و ثواب پر ہمارا ایمان ہے مگر خدا کے لیے علماء دیو بند کا کوئی بڑے سے بڑا ’’محدث‘‘ مجھ کو بتا تو دے کہ کیا تلاوت قرآن کے لیے بھی کبھی حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…عمدۃ القاری،کتاب الصلاۃ،باب الشعر فی المسجد، تحت الحدیث:۴۵۳، ج۳،ص۴۸۷
2…اکمال فی اسماء الرجال، حرف الحائ، فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۰