کے دسویں سال شوال کے مہینے میں ہجرت سے تین سال قبل بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مکہ میں نکاح فرمایا اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا شوال ۲ ھ میں مدینہ منورہ کے اندر کاشانہ نبوت میں داخل ہوگئیں اور نو برس حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت سے مشرف رہیں ، امہات المؤمنین میں سب سے زیادہ بارگاہِ رسالت میں محبوب ترین تھیں ۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بیوی کے لحاف میں میرے اُوپر وحی نہیں اُتری مگر حضرت بی بی عائشہ جب میرے ساتھ بستر نبوت پر سوتی ہیں تو اس حالت میں بھی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔فقہ و حدیث کے علم میں ان کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔دو ہزار دو سو دس حدیثیں انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہیں ان کی روایت کی ہوئی حدیثوں میں سے ایک سو چوہتر حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوںمیں ہیں اور چون حدیثیں ایسی ہیں جو صرف بخاری شریف میں ہیں اور اڑسٹھ حدیثیں وہ ہیں جن کو صرف مسلم نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے۔حضرت قاسم بن محمد بن ابو بکرصدیق کا بیان ہے کہ حضرت بی بی عائشہ ہمیشہ روزانہ تہجد پڑھنے کی پابند تھیں اور حضرت عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ فقہ و حدیث کے علوم کے علاوہ میں نے حضرت بی بی عائشہ سے بڑھ کر کسی کو اشعارِ عرب کا جاننے والا بھی نہیں پایا ۔آپ کے شاگردوں میں صحابہ اور تابعین کی ایک بہت بڑی جماعت ہے۔۱۷رمضان شب سہ شنبہ ۵۷ھ یا ۵۸ھ میں مدینہ منورہ کے اندر وفات پائی ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیت کے مطابق رات میں لوگوں نے آپ کو جنۃ البقیع کے قبرستان میں دوسری امہات المؤمنین کی قبروں کے پہلو میں دفن کیا ۔(1)(اکمال وحاشیہ اکمال وغیرہ)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال مع حاشیۃ،حرف العین،فصل فی الصحابیات، ص۶۱۲