کے ثمرات میں سے ہیں اور ’’لوح و قلم کا علم ‘‘آپکے علوم کا ایک جزو ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
نعت خوانی کا اہتمام
حدیث :۲۳
عَنْ عَاءشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِی الْمَسْجِدِ یَقُوْمُ عَلَیْہَا قَاءمًا یُّفَاخِرُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْ یُنَافِحُ وَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللّٰہَ یُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ مَا نَافَحَ اَوْ فَاخَرَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِی (1) (مشکوٰۃ،باب البیان والشعر،ص۴۱۰)
ترجمہ :حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسَّان کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھتے تھے اور حضرت حسَّان اس پر چڑھ کر کھڑے کھڑے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے بارے میں فخریہ اَشعار پڑھتے یا حضور کی طرف سے مشرکین کی ہجو کا جواب دیتے تھے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ جب تک حسان میری طرف سے مدافعانہ جواب دیتے یامیرے بارے میں فخریہ اَشعار پڑھتے رہتے ہیں حضرت جبریل علیہ السلام ان کی مدد فرماتے رہتے ہیں ۔
حضرت عائشہ: اس حدیث کوروایت کرنے والی اُم المؤمنین حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نورِ نظر اور دُختر ِ نیک اختر ہیں ۔ان کی والدہ کا نام ’’اُمّ رومان‘‘ ہے۔حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب البیان والشعر، الحدیث: ۴۸۰۵،ج۲، ص۱۸۸