Brailvi Books

منتخب حدیثیں
164 - 243
 پڑھائی اور منبر پر چڑھ گئے اور ظہر کی نماز تک خطبہ پڑھتے رہے پھر اُترے اور نماز پڑھ کر پھرمنبر پر چڑھ گئے اور خطبہ دیتے رہے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر اُترے اور نماز پڑھی پھرمنبر پر چڑھ گئے اور سورج ڈوبنے تک خطبہ پڑھتے رہے تو (اس دن بھر کے خطبہ میں  ) ہم لوگوں کو حضور نے تمام ان چیزوں اور باتوں کی خبر دے دی جو قیامت تک ہونے والی ہیں  تو ہم صحابہ میں  سب سے بڑا عالم وہی ہے جس نے سب سے زیادہ اس خطبہ کو یاد رکھاہے۔
حضرت عَمْرو بن اَخْطَب:اِس حدیث کے راوی حضرت عَمْرو بن اَخْطَب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ہیں  ۔یہ اَنصاری ہیں  اور ان کی کنیت ’’اَبو زید‘‘ہے اور محدثین کے نزدیک ان کی کنیت ان کے نام سے زیادہ مشہور ہے ۔
	یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے ساتھ بہت سے غزوات میں  شریک ِجہاد رہے۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے ایک مرتبہ محبت اور پیار سے ان کے سر پر ہاتھ پھیر  دیااور ان کی خوبصورتی کے لیے دعا فرمائیی۔جس کا یہ اثر ہوا کہ ان کی سو برس کی عمر ہوگئی تھی مگر سر اور داڑھی کے چند ہی بال سفید ہوئے تھے اور آخری عمر تک چہرے کا حسن و جمال باقی رہا۔ (1) (اکمال)
شرحِ حدیث:{۱} یہ حدیث مسلم شریف میں  بھی ہے۔اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نماز فجر سے غروب آفتاب تک بجز ظہر و عصر پڑھنے کے برابر دن بھر خطبہ ہی میں  مشغول رہے اور سامعین سُنتے رہے اور اس خطبہ میں  حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے قیامت تک کے ہونے والے تمام واقعات تمام چیزوں اور تمام 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال، حرف العین، فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۷