Brailvi Books

منتخب حدیثیں
162 - 243
 آپ کا دوست بنادیتی ہے ۔اسی طرح اگر آپ کسی کو ’’مُکہ‘‘دکھائیں   تو وہ آپ پر غضبناک ہوجاتاہے اور اگر آپ کسی کے آگے ہاتھ جوڑیں  تو وہ آپ پر رحم دل ہوجاتا ہے۔
	اسی طرح سمجھ لیجئے کہ انسان کے ہر قول و عمل میں  قدرت نے قسم قسم کی تاثیریں  اور طرح طرح کے اَثرات پیدا فرمائیےہیں ۔نیک اعمال اور اچھے اچھے اقوال کی تاثیرات و اَثرات بھی اچھے ہوا کرتے ہیں  اور بُرے اَعمال اور بُرے اَقوال کی تاثیرات و اَثرات بھی بُرے ہوا کرتے ہیں ۔حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے اس حدیث میں  پانچ بُرے اعمال اور ان کی بُری تاثیروں کا بیان فرمایا ہے۔
{۱}خیانت کی تاثیر یہ ہے کہ جو قوم امانت میں  خیانت کرنے لگے گی تو وہ قوم اپنے دشمنوں سے خاءف ،ڈرپوک اور بزدل ہو جایئں گی۔
{۲}اور جو قوم زناکاری کی لعنت میں  گرفتار ہو جائیں گی تو اس قوم پر طرح طرح کی بلائیں   بیماریاں اور وبائیں   آئیں   گی اور بکثرت لوگ مرنے لگیں  گے۔بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ’’جہا ں زنا وہاں فنا۔‘‘
{۳}اور جو قوم نا پ تول میں  کمی کرے گی تو اس کا یہ اثر  ہوگاکہ ان کی روزیوں کی برکت کٹ جائے گی۔وہ عمر بھر روزی کمانے کے لیے دربدر کی ٹھوکر کھاتے پھریں  گے اور ہزاروں لاکھوں کمائیں   گے بھی مگر ان کے دل کو چین اور روح کو سکون اور دولت کو قرار نہیں  حاصل  ہوگا اور کچھ پتہ نہیں  چلے گا کہ دولت کہاں سے آئی اور کدھر چلی گئی۔
{۴}اور جو قوم ناحق فیصلہ کرنے کی خوگر ہو جایئں گی تو اس گناہ کا یہ اثر  ہوگا کہ اس قوم میں  قتل و خون ریزی کی بلا پھیل جائے گی اور روزانہ دن رات ہر طرف قتل ہی ہوتے رہیں  گے۔