پانچ گناہ ،پانچ عذاب
حدیث :۲۱
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا ظَھَرَ الْغُلُوْلُ فِیْ قَوْمٍ اِلَّا اَلْقَی اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ وَلَا فَشَا الزِّنَا فِیْ قَوْمٍ اِلَّا کَثُرَ فِیْھِمُ الْمُوْتُ وَلَا نَقَصَ قَوْمٌ الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ اِلَّا قُطِعَ عَنْھُمُ الرِّزْقُ وَلَا حَکَمَ قَوْمٌ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّا فَشَا فِیْھِمُ الدَّمُ وَلَا خَتَرَ قَوْمٌ بِالْعَھْدِ اِلَّاسُلِّطَ عَلَیْھِِمُ العَدُوُّ (1) (مشکوٰۃ،باب تغیر الناس،ص۴۵۹)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب کسی قوم میں خیانت ظاہر اور کھلم کھلا ہونے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کے دل میں اس کے دشمنوں کا خوف اور ڈر ڈال دیتا ہے اور جب کسی قوم میں زِنا کاری پھیل جاتی ہے تو اس قوم میں بکثرت موتیں ہونے لگتیں ہیں اور جو قوم ناپ تو ل میں کمی کرنے لگتی ہے اُس قوم کی روزی کاٹ دی جاتی ہے اور جوقوم ناحق فیصلہ کرنے لگتی ہے اس قوم میں خون ریزی پھیل جاتی ہے اور جو قوم عہد شکنی اور بد عہدی کرنے لگتی ہے اس قوم پر اس کے دشمن کو غالب و مسلط کردیا جاتا ہے۔
شرحِ حدیث: جس طرح دواؤں اور غذاؤں میں خداوند قدوس عزوجل نے قسم قسم کی تاثیرات پیدا فرمائیی ہیں کہ زہر مار ڈالتا ہے، تریاق زہر کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے، بعض غذائیں صحت کو برباد کردیتی ہیں اور بعض غذائیں تندرستی کو بڑھادیتی ہیں اسی طرح انسان کے قول و افعال میں بھی قدرت نے قسم قسم کی تاثیرات رکھ دی ہیں مثلًا آپ کی ’’گالی‘‘دُنیا بھر کے انسانوں کو آپ کا دشمن بنادیتی ہے اور آپ کی ’’دُعاء‘‘ دنیا بھر کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب تغیرالناس، الحدیث:۵۳۷۰، ج۲، ص۲۷۶