نزول ہوتا رہے گا۔
اسی طرح جب مالدار سخی ہوں گے تو وہ اپنی دولت کو نیک کاموں میں خرچ کریں گے اور مساجد و مدارس اور دوسرے دینی اداروں اور اسلامی مرکزوں کی ترقی اور رونق بڑھے گی،کوئی ننگا بھوکا نہیں رہے گا، غرباء مالداروں سے محبت کریں گے، امیری فقیری کی جنگ ختم اور طبقاتی کشمکش کا خاتمہ ہو جایئں گا۔
اسی طرح جب اُمراء اور حُکّام کا تقرر اور تمام قومی معاملات آپس کے مشوروں سے طے پاتے رہیں گے تو بغض و کینہ اور تَحاسُد و تَباغُض کا روئے زمین سے جنازہ نکل جائے گااور ہر شخص کو سکون و اطمینان کے ساتھ نیکیوں اور اعمالِ صالحہ میں مصروف و مشغول رہنے کا موقع ملے گا ایسی صورت میں جبکہ روئے زمین کا چپہ چپہ امن و چین اور سکون و راحت کی جنت بناہوا ہو اور ہرطرف تجارتِ آخرت کے بازار میں چہل پہل اور رونق ہی رونق نظر آرہی ہو تو بلاشبہ یقینا ایک مسلمان کی زندگی اس کی موت سے بدرجہا خوشتر اور زمین کی پیٹھ زمین کے پیٹ سے بہتر ہوگی۔
برخلاف اس کے، جب حکومت کے امرا ء و حکام بدکار و حرام کار اور عیاش و بدمعاش ہوں گے تو ظاہر ہے کہ عدل و انصاف نہ ہونے سے زمین پر ہرطرف فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوگا اور ہر چہار جانب روئے زمین پر نِراج بلکہ شیطان کا راج ہوگا۔
اسی طرح جب مالدار بخیل ہوجایئں گے اور صدقات و خیرات کا دروازہ بند ہو جایئں گا تو غرباء و مساکین ننگے بھوکے ہوں گے،مزدور و سرمایہ دار کی جنگ شروع ہو جایئں گی اور طبقاتی کشمکش کا اژدہا منہ پھاڑے ہوئے زمین پر لہراتا ہوگا۔ مساجد و مدارس کی رونق میں کمی اور دینی اداروں کی بہاریں نذرِ خزاں اور اسلامی مراکز کے