زمین کی پیٹھ بہتر یا پیٹ
حدیث :۲۰
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا کَانَ اُمَرَاءکُمْ خِیَارَکُمْ وَاَغْنِیَاءکُمْ سَمْحَاءکُمْ وَاُمُوْرُکُمْ شُوْریٰ بَیْنَکُمْ فَظَھْرُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ بَطْنِھَا وَاِذَا کَانَ اُمَرَاءکُمْ شِرَارَکُمْ وَاَغْنِیَاءکُمْ بُخَلَاءکُمْ وَ اُمُوْرُکُمْ اِلٰی نساءکُمْ فَبَطْنُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ ظَہْرِھا۔ رواہ الترمذی (1)
(مشکوٰۃ،باب تغیر الناس،ص۴۵۹)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہارے اُمراء تم میں سے بہترین لوگ ہوں اور تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارا معاملہ آپس کے مشوروں سے طے ہوتا رہے تو تمہارے لیے زمین کی پیٹھ زمین کے پیٹ سے بہتر ہے اور جب تمہارے اُمراء بدترین لوگ ہوں اور تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات تمہاری عورتیں طے کرنے لگیں تو تمہارے لیے زمین کا پیٹ زمین کی پیٹھ سے بہتر ہے۔
شرحِ حدیث: اس حدیث میں زمین کی پیٹھ سے مُراد’’زمین کے اُوپر زندہ رہنا‘‘ اور زمین کے پیٹ سے مُراد ’’مرکرزمین میں مدفون ہونا‘‘ہے۔ ظاہر ہے کہ جب سلطنت کے اُمراء اور حکومت کے حُکّام نیک اور صالح لوگ ہوں گے تو ان کے عدل و انصاف سے زمین پر امن و امان اور سکون و اطمینان کا دور دورہ ہوگا اور ظلم و طُغْیان سرکشی و عِصْیان غرض ہر قسم کے جَراءم کا نام و نشان مٹ جائے گااور دن رات زمین پر رحمتِ الٰہی کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب تغیرالناس، الحدیث:۵۳۶۸، ج۲، ص۲۷۵