Brailvi Books

منتخب حدیثیں
157 - 243
 ہے کہ غلام آقا سے زیادہ پرہیزگار اور خدا کے نزدیک عزت والاہو۔
{۳} حدیث مذکور میں’’فَلْیُطْعِمْہُ مِمَّا یَأْکُلُ وَلْیُلْبِسْہُ مِمَّا یَلْبَسُ‘‘کا امر وجوبی نہیں ہے بلکہ یہ امر ارشاد ی یا امر اِستحبابی ہے لہٰذا آقا جو کھائے اور جو پہنے وہی غلاموں کو بھی کھلائے اور پہنائے یہ واجب نہیں ہے بلکہ مستحب اور کارِ ثواب ہے۔ (1)
	 لیکن بہر حال اس حدیث سے اتنی بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ غلاموں اور نوکروں کو بہت زیادہ خراب کھانا اور کپڑا نہیں دینا چاہئے بلکہ اپنی اور غلام یا نوکر کی حیثیتوں کا لحاظ کرتے ہوئے مناسب درجے کا کھانا ،کپڑا دینا آقا پر لازم ہے۔
						 واللہ تعالیٰ اعلم۔
’’ بِسْمِ اللّٰہ ‘‘ لکھنے کی فضیلت
حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْب عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تعظیم کیلئے عُمدہ شکل میں  ’’ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ‘‘ تحریر کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بخش دے گا۔‘‘
   (فیضان سنت،ج۱،ص۸۶ ، بحوالہ الد رالمنثور،ج۱،ص۲۷،دارالفکر بیروت)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…عمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب المعاصی من امرالجاھلیۃ۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۳۰
           ج۱،ص۳۱۱