Brailvi Books

منتخب حدیثیں
156 - 243
نے یہ عار دلانے والی بات حضرت بلال کے لئے اس وقت کہی تھی جبکہ حضرت اَبوذَر کو اس قسم کے الفاظ کی حرمت کا علم نہیں ہوا تھا ۔ورنہ حضرت اَبو ذَر جیسے پیکر تقویٰ و پرہیز گار ی سے ایسی بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔اسی لیے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے صرف یہ لفظ کہہ کر ان کی سرزنش فرمائی کہ’’ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی خصلت باقی ہے۔ ‘‘اور یہ زجرو توبیخ بھی ان کے بلند مَراتِب کی وجہ سے ہوئی کہ اتنے بڑے آدمی کی زبان سے اتنی چھوٹی اور گری ہوئی بات نہیں نکلنی چاہئے تھی۔ (1)
					(ارشاد الساری،ج۱،ص۲۴۶)
مسائل ِحدیث: حدیث مذکور بالا سے حسب ِذیل مسائل ثابت ہوتے ہیں :
{۱}کسی مسلمان کو اگرچہ وہ لونڈی، غلام یا نوکر چاکر ہی کیوں نہ ہو گالی دینا حرام ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ
	سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَقِتَالُہٗ کُفْرٌ  یعنی کسی مسلمان سے گالی گلوچ کرنا فاسق کا کام ہے اور کسی مسلمان سے جنگ و قتال کرنا کافر کا کام ہے۔
{۲}غلاموں اور نوکروں کو محض ان کی غلامی اور نوکری کی بناء پر حقیر و ذلیل سمجھنا جائز نہیں ہے اس لیے کہ بزرگی کا دارومدار ذات،خاندان یا دولت و حکومت پر نہیں ہے بلکہاِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰـکُمْ (2)کے فرمان الٰہی نے ہمیشہ کے لیے اس مسئلہ پر مہر ِصدتَصْدیق ثَبَت کردی ہے کہ بزرگی کا دارومدار تقویٰ اور پرہیز  گاری پر ہے تو ہو سکتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ارشاد الساری،کتاب الایمان،باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۳۰، 
           ج۱،ص۱۹۷
2…ترجمہء کنز الایمان:بے شک اللہ کے یہاںتم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے۔            (پ۲۶،الحجرٰت:۱۳)