جوڑا اپنے غلام کو بھی پہناتا ہوں ۔یہی و جہ ہے کہ تم میرا اور میرے غلام کا لباس ایک ہی جیسا دیکھ رہے ہو۔
حضرت اَبو ذَر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک شاہکار: حضرت اَبوذَر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس شخص کو ماں کی گالی دی تھی وہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔کیا گالی دی تھی بس اتنا کہدیا تھا کہ (اے کالی ماں کے بیٹے)حضرت بلال نے جب دربار ِ رسالت میں اس کی شکایت کی تو سرکار ِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اَبو ذَر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ڈانٹا اور نصیحت فرمائی ۔اس کے بعد حضرت اَبو ذَر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اس کا کیا رد عمل ہوا، یہ بہت ہی لَرزہ بَراَ ندام کردینے والی داستان ہے۔اس کو بار بار پڑھتے رہیے اور خدا کے خوف سے ڈرتے رہیے۔
دربار ِ رسالت کی ملامت سُن کر فوراًہی حضرت اَبوذَررضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ندامت کے ساتھ حاضر ہوئے اور ایک دم اپنا حسین رُخسار زمین پر رکھ کر انتہائی لَجاجَت کے ساتھ روتے اور گڑگڑاتے ہوئے یہ کہا کہ
اے بلال! جب تک تم اپنے قدم کے تلوے سے میرے اس رُخسار کو نہ روندوگے میں اس وقت تک اپنا یہ چہرہ ہرگز ہرگز زمین سے نہیں اٹھاؤں گا۔حضرت اَبو ذَر کے شدید اِصرار سے مجبور ہوکر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہنے بادِلِ نَخَواستہ اپنا قدم اَبو ذَر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے پر رکھ کر فوراً ہی ہٹالیا اور حضرت اَبو ذَر کو معاف کردیا۔ (1)(ارشاد الساری،ج۱،ص۲۴۶)
علامہ قَسْطَلانی نے اس واقعہ کے بارے میں یہ بھی تحریر کیا ہے کہ حضرت اَبوذَر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ا رشاد الساری،کتاب الایمان، باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔الخ، تحت
الحدیث:۳۰،ج۱،ص۱۹۷