Brailvi Books

منتخب حدیثیں
154 - 243
شرحِ حدیث: حدیث مذکور کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ جناب مَعْرور جب حضرت ابوذَر کی ملاقات کے لیے رَبَذَہ حاضر ہوئے تو یہ منظر دیکھا کہ آپ کے اور آپ کے غلام کے بدن پر بالکل ایک ہی قسم کا جوڑا ہے ۔آقا اور غلام دونوں کا لباس یکساں دیکھ کر قدرتی طور پر جناب مَعْرور کے دل میں اس سوال نے سر اٹھایا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ آقا اور غلام دونوں ایک ہی قسم کے لباس میں ملبوس ہیں تو آپ نے حضرت اَبو ذَر سے اس کے متعلق سوال کیا تو حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ میں نے ایک شخص کو ایک مرتبہ ماں کی گالی دے دی اس شخص نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  سے میری شکایت کردی  تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سَرزَنِش کے طور پر مجھ سے فرمایا کہ کیا تو نے اس کو ماں کی گالی دی ہے۔ اے ابو ذر ! رضی اللہ تعالیٰ عنہمسلمان ہونے کے بعد بھی تیرے اندر زمانۂ جاہلیت کی خَصْلَت باقی ہے ۔
	اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ نصیحت فرمائیی کہ تم اپنے لونڈی غلاموں اور نوکروں چاکروں کو ہرگز ہرگز حقیر و ذلیل مت سمجھو بلکہ یہ سمجھو کہ یہ تمہارے دینی بھائی ہیں جن کو خدا نے تمہارے ماتحت بناکر تمہارے قبضہ میں دے دیا ہے ۔لہٰذا اگر تمہارا کوئی دینی بھائی تمہارا ماتحت اور تمہارا غلام ہوتو اس کے ساتھ برادرانہ سلوک کرو یہاں تک کہ جو تم خود کھاتے ہو وہی اس کو کھلاؤ اور جو تم خود پہنتے ہو وہی اس کو بھی پہناؤاور ان لوگوں سے ان کی طاقت سے زیادہ مشقت کا کام نہ کراؤاور اگر کوئی مشقت کا کام ان لوگوں کے سپرد کرو تو تم خود بھی ان لوگوں کی مدد کرو۔اس لیے میں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اپنا یہ دستور بنالیا ہے کہ میں جو کھاتا ہوں  وہی اپنے غلام کو بھی کھلاتا ہوں  اور جس قسم کا جوڑا خود پہنتا ہوں  اسی قسم کا