بھی کام میں ان کی مددکرو۔
حضرت اَبو ذَر:یہ بہت ہی قدیم ا لا سلام صحابی ہیں یہاں تک کہ بعض لو گوں کا قول ہے کہ اسلام قبول کرنے میں باہری لوگوںکے اندر ان کا پانچواں نمبر ہے ان کے مسلمان ہونے کا پورا حال بخاری شریف میں مُفَصَّل مذکورہے۔اسلام لانے کے بعد سترہ دِنوں تک یہ صرف آب زم زم پی کر مسجد کعبہ میں مقیم رہے روزانہ یہ چلا چلا کر مجمع کفار میں اپنے اسلام کا اعلان کرتے تھے اور کفار مکہ ان کو اس قدر مارتے تھے کہ یہ لہولہان ہو کر بے ہوش ہو جاتے تھے مگر ہوش میں آنے کے بعد پھر اپنے اسلام کا اعلان کرتے تھے۔ ان کا اسم گرامی ’’ جُنْدُب بن جُنادَہ ‘‘ہے ۔بہت ہی عابد و زاہد اور انتہائی متقی صحابی ہیں۔دو سو اکیاسی حدیثیں آپ نے روایت کی ہیں ۳۲ھ میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں بمقام ’’رَبَذَہ ‘‘ آپ کا وصال ہوا اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (1)
رَبَذَہ :مدینۂ منورہ سے تین منزل دور ایک جگہ کا نام ہے۔(2)حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال پر غم زدہ ہوکر حضرت ابو ذر مدینہ منورہ سے ملک شام چلے گئے تھے ۔وہاں شام کے گورنر حضرت امیر مُعاوِیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کا ایک مسئلہ میں اختلاف ہوگیا تو حضرت امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو ذر کو ملک شام سے بلا کر ’’رَبَذَہ ‘‘ میں قیام کرنے کا حکم دے دیا ۔چنانچہ یہ آخری دم تک ’’رَبَذَہ ‘‘ ہی میں رہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال، حرف الذال، فصل فی الصحابۃ،ص۵۹۴
وفیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب المعاصی من امرالجاھلیۃ۔۔۔الخ،ج۱،ص۲۲۴
2…ارشاد الساری،کتاب الایمان،باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔الخ، تحت الحدیث:۳۰، ج۱،ص۱۹۷