Brailvi Books

منتخب حدیثیں
152 - 243
آقا اور غلام ایک لباس میں
حدیث :۱۹
	عَنِ الْمَعْرُوْرِ قَالَ: لَقِیْتُ اَبَاذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ وَعَلٰی غُلَامِہٖ حُلَّۃٌ فَسَئَلْتُہٗ عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ: اِنِّیْ سَابَبْتُ رَجُلًا فَعَیَّرْتُہٗ بِاُمِّہٖ فَقَالَ لِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا اَبَاذَرٍّ اَعَیَّرْتَہٗ بِاُمِّہٖ اِنَّکَ اِمْرَؤٌ فِیْکَ جَاہِلِیَّۃٌ اِخْوَانُکُمْ خَوَلُکُمْ جَعَلَھُمُ اللّٰہُ تَحْتَ اَیْدِیْکُمْ فَمَنْ کَانَ اَخُوْہُ تَحْتَ یَدِہٖ فَلْیُطْعِمْہُ مِمَّا یَأْکُلُ وَ لْیُلْبِسْہُ مِمَّا یَلْبَسُ وَلَا تُکَلِّفُوْھُمْ مَا یَغْلِبُھُمْ فَاِنْ کَلَّفْتُمُوْھُمْ فَاَعِیْنُوْھُمْ۔ (1)
							    (بخاری،باب المعاصی من امر الجاہلیۃ،ج۱،ص۹)
	ترجمہ:حضرت مَعْرور سے روایت ہے، انہوں  نے کہا کہ میں نے حضرت ابو ذر غِفَاری  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ’’رَبَذَہ‘‘ میں ملاقات کی، وہ اور ان کا غلام ایک ہی جیسا جوڑا پہنے ہوئے تھے تو میں نے اس کے بارے میں ان سے سوال کیا تو حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے ایک شخص سے گالی گلوچ کی اور اس کو ماں کی گالی دی تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا کہ اے ابوذر! تم نے اس کو ماں کی گالی دی تم ایسے آدمی ہو کہ تمہارے اندر جاہلیت کی خَصْلَت ہے تمہارے لونڈی غلام تمہارے (دینی) بھائی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تمہارا ماتحت بنادیا ہے تو جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو اس کو چاہئے کہ جو خود کھائے اس کو کھلائے اور جو خود پہنے اس کو پہنائے اور تم ان خادموں کو ایسے کاموں کی تکلیف مت دو جو انہیں لاچار کردے اور اگر تم ایسی تکلیف دو تو خود
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔الخ، الحدیث:۳۰، 
            ج۱،ص۲۳