جو ذکر ہے وہ اسی صورت میں ہے جب کہ مومن کو فتنوں کے مدافعت کی طاقت نہ ہو بلکہ خود فتنوں میں مبتلا ہونے کا یقین یا ظن ِغالب ہوچکا ہو۔چنانچہ اس سلسلے میں ترمذی اور ابن ما جہ کی ایک حدیث ہے جو اس مضمون پر شاہد عادل ہے۔
حضرت اَبو ثَعْلَبہ خُشَنِّی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لوگوں نے اس آیت کے بارے میں سوال کیا کہعَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْج لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ (1)تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس آیت کے بارے میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا تو حضور نے فرمایا کہ تم لوگ ہمیشہ نیکی کا حکم دیتے رہو اور بدی سے منع کرتے رہو یہاں تک کہ جب تم یہ دیکھ لو کہ ہر شخص بخل کا پیروکار بن گیا اور سب لوگ دنیا کو دین پر ترجیح دینے لگے اور ہر شخص اپنی ہی رائے کو سب سے بہتر سمجھنے لگا، او ر تم ایسے فتنوں کو دیکھ لو کہ ان سے بچنا دشوار ہوجائے تو پھر تم لوگ اپنی ہی ذات کو لازم پکڑلو اور عوام کے معاملہ کو بالکل چھوڑدو(یعنی گوشہ نشین ہوجاؤ)کیونکہ تمہارے بعد صبر کے دن آرہے ہیں جو اُن دنوں میں صبر کرلے گاگویا ہاتھ میں آگ کا انگارہ لے گا۔ اُن دنوں میں جو نیک اعمال کرے گا اس کو پچاس آدمیوں کے اعمالِ صالحہ کرنے کا ثواب ملے گا۔صحابہ نے عرض کیا کہ یارسو ل اللہ ! ان لوگوں میں سے پچاس آدمیوں کے اعمالِ صالحہ کا اجر اس کو ملے گا یا ہم صحابہ کے پچاس آدمیوں کے اعمالِ صالحہ کا ثواب اس کو ملے گا؟تو ارشاد فرمایاکہ تم (صحابہ) میں سے پچاس آدمیوں کے اعمالِ صالحہ کا ثواب اس کو ملے گا۔ (2) (مشکوٰۃ،باب الامربالمعروف) واللہ تعالیٰ اعلم۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز الایمان:تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو ۔
(پ۷، المآئدۃ:۱۰۵)
2…مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب الامربالمعروف،الحدیث:۵۱۴۴،ج۲،ص۲۳۹