حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت کے لیے اس حدیث میں ایک تدبیر بتائی ہے کہ جب اس قسم کے فتنے نَمودار ہوں کہ بستیوں اور آبادیوں میں دین خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجائے تو مومن کو چاہئے کہ گوشہ نشینی اختیار کرلے تاکہ فتنوں سے مَحفوظ رہے۔
گوشہ نشینی:اِس مسئلہ میں اِختلاف ہے کہ فتنوں کے دور میں مومن کے لیے گوشہ نشینی بہتر ہے یا آبادیوں میں رہ کر فتنوں کا مقابلہ کرنا بہتر ہے حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ فتنوں کے وقت میں گوشہ نشینی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ایسا کرنے میں تعلیم و تَعلُّم کا دروازہ بند ہوجائے گااور آدمی جُمُعہ و جماعت کی فضیلتوں سے محروم ہوجائے گا۔
اور دوسرے علماء کا قول ہے کہ فتنوں کے دور میں گوشہ نشینی ہی بہتر ہے تاکہ آدمی فتنوں سے مَحفوظ رہے۔ مگر حق یہ ہے کہ اس مسئلہ کا دارومدار احوال و ماحول اور فتنوں کی نوعیت پر ہے اگر فتنے اس قدر شدید ہیں کہ یہ نہ ان کو دفع کرسکتا ہے نہ ان کا مقابلہ کرسکتا ہے بلکہ شدید خطرہ ہے کہ یہ خود فتنوں کے طوفان میں اپنا دین کھوبیٹھے گا تو ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں اس شخص کے لیے گوشہ نشینی ہی بہتر ہے اور اگر یہ شخص فتنوں کا مقابلہ کر کے فتنوں کو ختم کرسکتا ہے یا خود فتنوں سے بچ کر اُمتِ رسول کو بھی بچا سکتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس شخص کے لیے گوشہ نشینی ہر گز ہرگز جائز نہیں ہوسکتی بلکہ اس شخص پر واجب ہے کہ شہروںاور قصبوں میں رہ کر فتنوں کا مقابلہ کرے اور ان فتنوںکو دفع کرنے کی سعی بلیغ کرتا رہے۔ (1) اس حدیث میں بکریوں کو ساتھ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جانے کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ارشاد الساری،کتاب الایمان،باب من الدین الفرا رمن الفتن،تحت الحدیث:۱۹،ج۱،ص۱۷۴
وعمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب من الدین الفرا رمن الفتن،تحت الحدیث:۱۹،ج۱،ص۲۴۸