چلا جائے۔(1) (مسلم شریف،کتاب الْفِتَن،ج۲،ص۳۸۹)
فوائدومسائل:حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمنے اس کے علاوہ دوسری سینکڑوں حدیثوں میں اپنی امت کو ان فتنوں سے آگاہ فرمایا ہے جو زمانۂ نبوت کے بعد وقوع پذیر ہونے والے ہیں اور ان فتنوں سے پناہ مانگنے اور ان سے بچنے کی تاکید فرمائیی ہے۔ چنانچہ سینکڑوں حدیثوں میں سے صرف دوحدیثیں پیش کرتا ہوں ۔
{۱}عنقریب کچھ فتنے ایسے رونما ہوں گے کہ ان فتنوں کے وقت میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگااور جو فتنوں کا سامنا کرے گا فتنے اس پر غالب آجائیں گے لہٰذا جو شخص کوئی ٹھکانہ یا جائے پناہ پا جائے تو اُس کو چاہئے کہ وہ وہاں جاکر فتنوں سے بچ جائے۔ (2)(بخاری،ج۲،ص۱۰۴۸)
{۲}حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ ان فتنوں کے آنے سے پہلے ہی جلد ی جلدی اعمالِ صالحہ کرلوجو فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کے مثل ہوں گے۔ ان فتنوںمیں آدمی صبح کو مومن اور شام تک کافر ہوجائے گا اور شام کو مومن رہے گا اور صبح تک کافرہوجائے گا،دنیا کے حقیر سامانوں کے بدلے اپنا دین بیچ ڈالے گا۔ (3) (مسلم ومشکوٰۃ،کتاب الْفِتَن)
غرض فتنوں کے بارے میں اس قسم کی بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب نزول الفتن کمواقع القطر،
الحدیث:۲۸۸۷،ص۱۵۴۲
2…صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام، الحدیث:۳۶۰۱،
ج۲،ص۵۰۰
3…مشکاۃ المصابیح،کتاب الفتن ،الفصل الاوّل، الحدیث:۵۳۸۳، ج۲، ص۲۷۹