Brailvi Books

منتخب حدیثیں
148 - 243
شرحِ حدیث:حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  اس حدیث میں غیب کی خبر دے رہے ہیں کہ میرے بعد عنقریب میری اُمّت میں بہت سے فتنے پیدا ہوجائیں گے ۔اُس وقت مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہونگی کہ مسلمان ان کو اپنے ساتھ لے کر اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پرجاکر گوشہ نشین ہوجائے گا۔ بکریوں کادودھ پیتا رہے گااورخدا کی عبادت کرتا رہے گا۔اس زمانے میں روپیہ پیسہ مومن کا بہترین مال نہیں رہے گا۔کیونکہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر روپیہ پیسہ کچھ کام نہیں آئے گا اور شہروں میں جہاں روپیوں پیسوں سے کام چلتا ہے اس قدر فتنے ہوں  گے کہ ایک مومن کے لیے آبادیوں میں اپنے دین کو فتنوں سے بچانا بہت دشوار ہوجائے گا۔
	اس حدیث میں خاص طور پر پہاڑوں کی چوٹیوں پر مومن کے جانے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ایسے مقامات عمومًا فتنہ و فساد سے محفوظ رہتے ہیں اور مویشیوں میں سے خصوصیت کے ساتھ بکریوں کا تذکرہ اس لیے فرمایا کہ اونٹوں، گایوں، بھینسوں کی نسبت بکریوں کو لے کر پہاڑ کی چوٹیوں پر جانا اور وہاں ان کی نگہداشت بہت آسان ہے کیونکہ بکری بہت ہی مسکین صِفَت جانور ہے۔اس میں بدک کر بھاگنے اور سرکشی و اِیذا رَسانی کی صِفَت نہیں ہے۔اس کا دودھ بھی بے ضرر ہے اور یہ بہت ہی بابرکت جانور بھی ہے کیونکہ خدا کے ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں اس لیے بکریوں کو چرانا سُنّت بھی ہے ورنہ فتنوں سے بچنے کے لیے گوشہ نشینی کے واسطے بکری ہی لے کر جانا ضروری نہیں ہے۔چنانچہ حضرت ابو بَکْرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت میں آیا ہے کہ جس کے پاس اُونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چراگاہ میں چلا جائے اور جس کے پاس بکریا ں ہوں  وہ اپنی بکریوں کے ریوڑ میں چلا جائے اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین پر