چوراسی برس کی عمر پاکر انتقال فرمایا اور جنتُ الْبَقِیْع میں مدفون ہوئے۔ (1)(اکمال)
تیرہ غزوات میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ِجہاد رہے۔ ایک سو ستّر حدیثیں آپ سے مروی ہیںاور بخاری شریف میں باسٹھ حدیثیں آپ کی روایت کی ہوئی مذکور ہیں۔ (2)(فیوض الباری،ج۱،ص۱۶۴) مگر قسطلانی نے لکھا ہے کہ بخاری شریف میں آپ کی روایت سے چھیاسٹھ حدیثیں ہیں۔(3) (ارشاد الساری،ج۱،ص۲۲۷)
توضیح ِاَلفاظ:اِس حدیث کے چند اَلفاظ کی توضیح حسب ِذیل ہے:
’’غَنَم‘‘بکری کو کہتے ہیں، اسم مؤنث ہے، نر ومادہ دونوں کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے۔’’شَعَفْ‘‘پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں اس کی جمع ’’شِعاف ‘‘ہے۔ (4)
’’ فِتَنْ‘‘ فتنہ کی جمع ہے اس کے مندرجہ ذیل معانی آتے ہیں:
آزمائش ،گمراہی،شرک ،رسوائی،رنج،دیوانگی،عبرت،عذاب،مرض،مال واولاد،اختلاف،جنگ وجِدال۔ (5) (المنجد وغیرہ)
مگر اس حدیث میں اور عام طور پر ’’کتاب الْفِتَن ‘‘کی حدیثوں میں فتنہ سے مُراد ’’اختلاف ِاُمَّت‘‘اور وہ فسادات ہیں جو دین میں خرابی پڑجانے کا باعث ہیں۔(نووی وغیرہ)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال، حرف السین، فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۸
2…فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب من الدین الفرارمن الفتن،ج۱،ص۲۰۱
3…ارشاد الساری،کتاب الایمان، باب من الدین الفرار من الفتن، تحت الحدیث:۱۹،
ج۱،ص۱۷۳
4…عمدۃ القاری،کتاب الایمان، باب من الدین الفرار من الفتن، تحت الحدیث:۱۹،
ج۱، ص۲۴۷
5…المنجد، حرف الفائ، ص۵۶۸