{۵}اس حدیث میں’’اَنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ اُمِلَّکُمْ‘‘کے جملے سے یہ مسئلہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ عالموں کو اپنے وعظوں میں اس کا لحاظ و خیال رکھنا چاہئے کہ لوگ وعظ سے اکتا کر رَنج و مَلال میں نہ پڑجائیں لہٰذا اتنی ہی دیر تک وعظ بیان کرنا چاہئے جب تک لوگ نِشاط اور شوق کے ساتھ سنتے رہیں۔وعظ کو اتنا طول نہیں دینا چاہئے کہ لوگ گھبرا کر بددلی کے ساتھ سننے لگیں ورنہ اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کلام و احکام کو سننے میں بے رغبتی کا گناہ لازم آئے گا۔واللہ تعالیٰ اعلم۔
فتنوں کا سیلاب
حدیث :۱۸
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الخُدْرِیِّ اَنَّہٗ قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ یَتْبَعُ بِھَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَ مَوَاقِعَ القَطْرِ یَفِرُّ بِدِیْنِہٖ مِنَ الْفِتَنِ۔ (1)(بخاری،باب من الدین الفرار من الفتن،ج۱،ص۷)
ترجمہ:حضرت اَبو سعید خُدْری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عنقریب وہ زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کے پیچھے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر بھاگتا ہوا چلا جائے گاتاکہ وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچالے۔
حضرت اَبو سعیدخُدْری:اِس حدیث کے راوی ابو سعید خُدْری رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی ہیں۔ اِن کا نام سعد بن مالک ہے اور یہ اَنصار کے قبیلہ ’’ خَزْرَج‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِن کے مورث اعلیٰ کا نام ’’خُدْرہ‘‘تھااس لیے ’’خُدْری ‘‘کہلاتے ہیں۔ ۷۴ھ میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب من الدین الفرار من الفتن، الحدیث:۱۹،ج۱،ص۱۸