سے فارغ ہوکر اور فرصت کا وقت نکال کر شوق سے وَعْظوں کے جلسوں میں شامل ہوتے ہیںاور ان کے کاروبار کا پروگرام بھی نہیں بگڑتا۔
{۳}اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ محفل ِمیلاد شریف،جلسۂ رجبی شریف، جلسۂ بارہویں شریف،جلسۂ گیارہویں شریف وغیر ہ کے لئے وقت اور دن مقرر کرنا ہرگز ہرگز بدعت اور گناہ نہیں ہے بلکہ ایک جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ ہے کہ آپ نے جمعرات کے دن کو وعظ کے لیے معین اور مقرر فرمادیا تھا۔
جو لوگ میلاد شریف میں تعیین ِوقت اور تَداعی (ایک دوسرے کو دعوت دینے) سے چڑتے اور منہ بگاڑتے ہیں اور اس کو بدعت قرار دیتے ہیں اگر وہ تَعَصُّب اور ہٹ دھرمی کی عینک اتار کر اس حدیث کو دیکھ لیں تو ان پر بھی اس حقیقت کا انکشاف ہوجائے گاکہ کسی جائز کام کو دن مقرر کر کے کرنا نہ صرف جائز بلکہ اخلاص و نیت ِخیر کے ساتھ ہو تو مُسْتَحَب و مُسْتَحْسَن بھی ہے۔
{۴}اس حدیث سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ علماء ِکرام کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ اپنے مَواعِظ اور تقریروں کے ذریعہ عوام میں تبلیغ و تذکیر کرتے ر ہیں۔صحابۂ کرام اور تابعین و تبع تابعین بلکہ ان کے بعد کے علماء بھی برابر عوام کی اصلاح اور تبلیغ اسلام کی غرض سے وعظ و تقریر فرماتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول تو یہ تھا کہ اگر تم لوگ میری گردن پر تلوار رکھ دو اور پھر اس حالت میں بھی اگر میں یہ سمجھ لوں کہ گردن کٹنے سے پہلے میں ایک بات جو میں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی ہے اس کو تم لوگوںتک پہنچا سکوں گاتو اس کو ضرور پہنچادوں گا۔ (1)(بخاری،ج۱،ص۱۶)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب العلم،باب العلم قبل القول والعمل، ج۱، ص۴۲