حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا ایک فرد سمجھتے تھے ۔آپ بہت ہی دبلے پتلے اور پستہ قد تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی اور یہ فرمایا کہ میں اپنی امت کے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو یہ پسند کریں اور اسی کو ناپسند سمجھتا ہوں جس کو یہ ناپسند کریں ۔ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں کوفہ کے قاضی اور بیت المال کے منیجر رہے آٹھ سو اڑتالیس حدیثیں آپ سے مروی ہیں ۔فقہ حنفی کا دارومدارزیادہ تر آپ ہی کی روایات پر ہے۔ آخری عمر میں آپ کوفہ سے مدینہ چلے آئے اور ۳۲ھ میں ساٹھ سال سے زیادہ عمر پاکر وصال فرمایا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ (1) (اکمال وفیوض الباری،ص۱۰۸)
فوائد و مسائل:{۱} اس حدیث کو امام بخاری نے اس کے علاوہ ’’ کتاب الدعوات‘‘ میں اور مسلم نے باب توبہ میں اور ترمذی نے باب اِسْتِیْذَان میں ذکر کیا ہے۔
{۲}حدیث کا مطلب واضح ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایسے وقت میں وعظ فرمایا کرتے تھے جب لوگ اپنے کام دھندے سے فرصت پاکر اطمینان سے سن سکیں۔ اسی لیے حضرت عبداللہ بن مسعود ہفتہ میں ایک ہی مرتبہ جمعرات کے دن اپنے وعظ کا پروگرام رکھتے تھے تاکہ لوگ اس دن اپنے کاروبار سے فارغ ہوکر اور فرصت پاکر سکون و اطمینان کے ساتھ وعظ سن سکیں ۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وعظ کے جلسوں کے لیے وقت اور دن مقرر کردینے میں سامعین کو بڑی آسانی ہوا کرتی ہے کیوں کہ جب لوگوں کو پہلے سے معلوم رہتا ہے کہ فلاں دن اور فلاں وقت وعظ ہونے والا ہے تو لوگ اپنے کاموں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال،حرف العین، فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۵
وفیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۷۰