Brailvi Books

منتخب حدیثیں
143 - 243
 مِنْ ذٰلِکَ اَنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ اُمِلَّکُمْ وَاِنِّیْ اَتَخَوَّلُکُمْ بِالْمَوْعِظَۃِ کَمَا کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَخَوَّلُنَا بِھَا مَخَافَۃَ السَّامَۃِ عَلَیْنَا۔(1)
		        (بخاری،باب من جعل لاھل العلم ایاما معلومۃ،ج۱،ص۱۶)
	ترجمہ :حضرت ابو وائل (   شقیق بن سلمہ ) سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ہر جمعرات کے دن وعظ فرمایا کرتے تھے تو ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن!میری تمنا ہے کہ آپ روزانہ ہم کو وعظ سُنایا کریں تو آپ نے فرمایا کہ( روزانہ وعظ کہنے سے) جو چیز مجھے روکتی ہے وہ یہ ہے کہ میںتم لوگوں کو تنگی میں ڈالنا نہیں چاہتا اور تمہاری فرصت کا خیال رکھتا ہوں  جیسے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  وعظ سنانے میں ہماری فرصت کا خیال رکھتے تھے اس خوف سے کہ ہم اکتا نہ جائیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود:اس حدیث کے راویوں میں حضرت عبداللہ بن مسعود صحابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بہت جامع فضائل و کمالات ہیں ابتدا ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس لیے سابقین اولین میں آپ کا شمار ہے۔
	یہاں تک کہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ چھٹے مسلمان ہیں ۔مکہ سے حبشہ اور حبشہ سے مدینہ دونوںہجرتوں کاشرف آپ کو حاصل ہے ۔آپ کی کنیت ابو عبد الرحمن اور لقب  ’’ صَاحِبُ النَّعْلَیْنِ وَالْوِسَادَۃِ وَالْمِطْہَرَۃِ ‘‘ہے یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کی نعلین اور مَسْنَد،نیزوضو کا برتن اور مسواک وغیرہ آپ ہی کی تحویل میں رہتی تھیں۔ جنگ بدر اور دوسری لڑائیوںمیں بھی شریک جہاد رہے اور عمر بھر حضور  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کی خدمت میں اس طرح حاضر باش اور راز دار رہے کہ باہر سے آنے والے لوگ آپ کو 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من جعل لاھل العلم ایاما معلومۃ، الحدیث:۷۰، 
           ج۱،ص۴۲