Brailvi Books

منتخب حدیثیں
142 - 243
  رکھے گاتو گناہگار ہوگا۔ (1) (نووی علی المسلم،ج۲،ص۳۳۶)
{۴}غیر موذی جانوروں پر کسی قسم کا ظلم کرنا حرام ہے۔جو لوگ گھوڑوں ،گدھوں پر اُن کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادتے ہیںیا بلاو جہ مارتے پیٹتے ہیں یا تفریح کے طور پر بلا ضرورت جانوروں کو زدو کوب کرتے رہتے ہیں ان لوگو ں کے لیے اس حدیث میں لَرْزہ بَراَ نْدام کرنے والی اورعبرت خیز وعید ہے ۔اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ظلم کے گناہ سے محفوظ رکھے۔(آمین)
	حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ظالم اپنی ہی ذات کو نقصان پہنچاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ کیوں نہیں! (ظالم کے ظلم کی نُحوست سے باری تعالیٰ بارش بند فرمادیتا ہے تو) جُباریٰ (ایک پرند) اپنے گھونسلے میں لاغر ہوکر ظالم کے ظلم کی و    جہ سے مرجاتی ہے۔ (2) (مشکوٰۃ،باب الظلم)
	بہرحال ظلم خواہ کسی انسان پر ہو یا کسی جانور پر بہرحال حرام اور جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم۔
وَعْظ کے لیے دن مقرّر کرنا
حدیث :۱۷
	عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ:کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ یُذَکِّرُ النَّاسَ فِیْ کُلِّ خَمِیْسٍ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ:یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ لَوَدِدْتُ اَنَّکَ ذَکَّرْتَنَا کُلَّ یَوْمٍ۔قَالَ:اَمَا اِنَّہٗ یَمْنَعُنِیْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…شرح صحیح مسلم للنووی،کتاب قتل الحیات وغیرھا،باب تحریم قتل الھرۃ، ج۲، 
           ص۲۳۶
2…مشکاۃالمصابیح،کتاب الآداب،باب الظلم، الحدیث:۵۱۳۶، ج۲، ص۲۳۷ 
           ومرقاۃ المفاتیح،کتاب الآداب،باب الظلم، الحدیث:۵۱۳۶، ج۸، ص۸۵۹