Brailvi Books

منتخب حدیثیں
140 - 243
 ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  روایت کرتے ہیںکہ حضور نبی  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا کہ ایک عورت ایک بلی کے معاملہ میں جہنم میں داخل ہوئی۔ اُس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا نہ تو اس کو کچھ کھلایا نہ اس کو چھوڑا کہ وہ حشرات الارض کو کھاتی۔(یہاں تک کہ وہ بھوکی مرگئی)
حضرت ابن عمر:اس حدیث کے راوی حضرت ابن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ہیں۔ ان کا نام عبداللہ ہے اور یہ امیر المؤمنین حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے نامور فرزند ہیں۔ بچپن ہی میں اپنے والد ماجد کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئے اور ہجرت کرکے مدینہ گئے جنگ ِ خَنْدَق اور بیعۃ الرضوان وغیرہ میں شریک ہوئے ۔انتہائی عابد و زاہد اور متقی و پرہیز گا ر صحابی ہیں۔اپنی زندگی میں ایک ہزار سے زائد غلاموں کو خرید خرید کر آزاد کیا۔ حضرت جابربن عبداللہ صحابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرمایا کرتے تھے کہ ہم میں سے ہر شخص کے پاس دُنیا آگئی ہے مگر حضرت عبداللہ اور ان کے والد امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس سے دُنیا کا گزر نہیں ہوا ۔میمون بن مہران تابعی کہا کرتے تھے: میں نے ابن عمر سے بڑھ کر متقی اور ابن عباس سے بڑھ کر علم والا کسی کو نہیں دیکھا۔ ایک ہزار چھ سو تیس حدیثیں آپ نے روایت فرمائیی ہیں۔جن میں سے ایک سو ستر حدیثیں ایسی ہیں کہ وہ بخاری شریف و مسلم دونوں کتابوں میں ہیں اور اکیاسی حدیثیں وہ ہیں جو صرف بخاری شریف میں ہیںاور اکتیس حدیثیں ایسی ہیں جو صرف مسلم شریف میں ہیں ۔علم فقہ و حدیث میں ان کا مرتبہ بہت بلند ہے اور ان کے شاگردوںکی فہرست بہت طویل ہے۔ جن میں حضرت سالم و حمزہ و عبید اللہ و امام نافع جیسے بلند پایہ فقہا و محدثین ہیں ۔ 
     	   حَجَّاج بن یوسف ثَقَفی ظالم گورنر کو آپ حج کے مسائل اور دوسرے شرعی معاملات