Brailvi Books

منتخب حدیثیں
139 - 243
الثَّوَابُ بِالْاِحْسَانِ اِلَیْہِ لَا غَیْرُ الْمُحْتَرَمِ کَالْحَرْبِیِّ وَاْلکَلْبِ الْعَقُوْرِ(1)     (قسطلانی ،ج۱،ص۴۴۱) 
	یعنی اس حدیث میں ہرمخلوق کے ساتھ احسان کرنے کی جو ترغیب دلائی گئی ہے اس سے وہی مخلوق مُراد ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک محترم اور قابل ِاِعزاز ہے، ورنہ وہ مخلوق جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک محترم اور قابل ِعزت نہیں ہے جیسے کافر حربی اور لوگوں کو کاٹنے والا کتا،ان کے ساتھ احسان کرنے میں کوئی اجر و ثواب نہیںہے۔
{۶} جب جانوروں کے ساتھ احسان اور نیک سلوک کا یہ درجہ ہے کہ ایک پیاسے کتے کو پانی پلادینے والا جنت میں داخل ہوگیا تو بھوکے پیاسے مومنوں کو کھانا پانی سے سیراب کرنے والا کتنے بڑے بڑے اجر عظیم کا مستحق ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس کو بہشت میں کیسے کیسے مَدارِج و مَنازِل عطا فرمائیے گا اس کی کیفیت و کَمِیَّت کو بھلا ’’ عَلاَّمُ ا لغُیوب‘‘ کے سوا اور کون جان سکتا ہے  وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِاللہ کا فضل و کرم بہت ہی بڑاہے۔
بلی کو بھوک سے مارنے والی
حدیث :۱۶
	عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:دَخَلَتْ اِمْْرَأَۃٌ النَّارَ فِیْ ھِرَّۃٍ رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ تَدَعْھَا تَأْکُلُ مِنْ خُشَاشِ الْاَرْضِ(2)(بخاری،باب خمس من الدواب،ج۱،ص۴۶۷)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…ا رشادا لساری،کتاب المساقاۃ،باب فضل سقی المائ،تحت الحدیث:۲۳۶۳،ج۵،ص۳۹۸
           وشرح صحیح مسلم للنووی،کتاب قتل الحیات وغیرہا، باب سقی البہائم المحترمۃ
           واطعامہا،ج۲،ص۲۳۷ ملخصاً
2…صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،باب خمس من الدواب۔۔۔الخ، الحدیث:۳۳۱۸، 
           ج۲،ص۴۰۸