اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہغُفِرَ لِامْرَأَۃٍ مُوْمِسَۃٍ مَرَّتْ بِکَلْبٍ عَلٰی رَأْسِ رَکِیٍّ یَلْھَثُ قَالَ:کَادَ یَقْتُلُہُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّھَا فَاَوْثَقَتْہُ بِخَمَارِھَا فَنَزَعَتْ لَہٗ مِنَ الْمَائِ فَغُفِرَ لَھَا بِذَالِکَ (1) (بخاری،باب اذا وقع الذباب،ج۱،ص۴۶۷)
یعنی ایک زنا کار عورت کی مغفرت اس طرح ہوگئی کہ وہ ایک کتے کے پاس سے گزری جو ایک کنویں کے پاس زبان نکالے ہوئے تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت اس کو مارڈالے تو اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اور اس کواپنے دوپٹے میں باندھ کر کنویں میں سے پانی بھر کر اس کو پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس عمل کے اجر میں اس کو بخش دیا۔
{۴}اس حدیث میں تمام مخلوق پر رحم و کرم کرنے کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ فاعل ِمختار ہے وہ چاہے تو ایک بہت ہی ادنیٰ سے نیک عمل کرنے والے کو اپنے فضل و کرم سے بخش دے ۔اس کے دربار میں عمل کے وزن اور مقدار کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کی بارگاہ میں خلوصِ نیت اور اخلاصِ عمل کی قدر ہے،بہت ہی معمولی عمل اگر بندہ اِخلاص و نیک نیتی کے ساتھ کرے تو وہ ربّ ِکریم اس عمل کے ثواب میں بندے کو اپنے رضوان وغفران کی نعمتوں سے سرفراز فرماکر اس کو جنت الفردوس کا مکین بنادیتا ہے۔
رحمتِ حق بہانہ می جوید رحمت حق بہا، نمی جوید
خدا کی رحمت بندوں کو بخشنے کا بہانہ ڈھونڈتی ہے ۔خدا کی رحمت بندوں سے مغفرت کی قیمت نہیں طلب کرتی ہے۔
{۵}امام نَوَوِی علیہ رحمۃاللہ القوی نے حدیث مذکور کے تحت میں فرمایا کہ اَلْمُحْتَرَمُ یَحْصُلُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق، باب اذا وقع الذباب فی شراب احدکم ۔۔۔الخ،
الحدیث:۳۳۲۱،ج۲،ص۴۰۹