{۲}یہ حدیث بخاری شریف کی ایک روایت میں یوں بھی آئی ہے کہ اس حدیث کو سُن کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیاکہ یارسول اللہ ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کیا چوپایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں بھی ہم کو ثواب ملے گا؟تو ارشاد فرمایا کہ ہاں ’’فِیْ کُلِّ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ اَجْرٌ ‘‘(1)ہر گیلے جگر میں یعنی ہر جاندار کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں ثواب ہے۔(قسطلانی ،ج۱،ص۴۴۲) اور یہی حدیث انہی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے اسی بخاری شریف میں اس طرح بھی آئی ہے کہ
ایک شخص پر راستہ چلتے ہوئے پیاس کا غلبہ ہوا تو اس کو ایک کنواں ملا اُس نے کنویں میں اُتر کر پانی پی لیا پھر جب وہ کنویں میں سے نکلا تو ناگہاں یہ دیکھا کہ ایک کتا زبان نکالے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے تو اس آدمی نے دل میں یہ سوچا کہ جیسی پیاس مجھ کو لگی تھی ایسی ہی پیاس اس کتے کو بھی لگی ہے تو وہ کنویں میں اتر کر اپنے موزہ میں پانی بھرکر لایا پھر کتے کو پلایاتو اس کا یہ عمل خدا کو پسند آگیا اور اس کو بخش دیا۔یہ سن کر صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ !عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا ہمارے لیے چوپایوں کے ساتھ احسان کرنے میں ثواب ہے ؟تو ارشاد فرمایا کہ ہاں! ہر گیلے جگر میں یعنی ہر جاندار کے ساتھ احسان کرنے میںثواب ہے۔ (2)
{۳}اس روایت میں تو یہ واقعہ بنی اسرائیل کے ایک مرد کا ہے مگر بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میںاسی قسم کا ایک واقعہ زنا کار عورت کا بھی بیان ہوا ہے چنانچہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ارشادالساری،کتاب الوضوئ،باب اذا شرب الکلب فی اناء احدکم ۔۔۔الخ،تحت
الحدیث:۱۷۳،ج۱،ص۴۵۷
2…صحیح البخاری،کتاب المظالم والغصب،باب الآبارعلی الطرق۔۔۔الخ، الحدیث:۲۴۶۶، ج۲،ص۱۳۳