Brailvi Books

منتخب حدیثیں
135 - 243
 کرنے والا اپنے پسماندگان کو رخصت کیا کرتا ہے اس حج کا نام’’حجۃ الوداع‘ ہوگیا۔
شرحِ حدیث: یہ حدیث حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے ایک طویل خطبہ کا ایک ٹکڑا ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آخری حج ’’حجۃ الوداع ‘‘ کے موقع پر جبکہ لوگ منٰی میں جمروں کو کنکری مارنے کے لیے جمع تھے اس وقت یہ خطبہ ارشاد فرمایاتھا۔
	حاشیہ بخاری شریف میں ہے کہ اس حدیث میں صرف دو ہی جملے ہیں ایک 
’’ لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا ‘‘دوسرا  ’’ یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ‘‘ اب دو حال سے خالی نہیں یا تو دوسرا جملہ پہلے جملے کا بیان ہے یا دو، الگ الگ مستقل جملے ہیں۔ اگر دوسرا جملہ پہلے جملے کا بیان ہو تو حدیث کا مطلب یہ ہوگاکہ تم لوگ میرے بعد کافروں جیسا کام یعنی ایک دوسرے کی گردن مارنا،یہ دھندا کبھی ہرگز مت کرنا اور اگر دوسرا جملہ پہلے جملہ کابیان نہ قرار دیا جائے تو حدیث کا حاصل مفہوم یہ ہوگا کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں اپنی امت کو دو باتوں سے منع فرمایا ایک بات تو یہ کہ تم لوگ میرے بعدکافر مت ہوجانا بلکہ آخری دم تک اسلام پر قائم رہنا اور دوسری بات یہ کہ تم ایک دوسرے کو ناحق قتل مت کرنا۔ (1)
فوائد و مسائل:{۱}اس حدیث کو امام بخاری نے ’’مَغازی ‘‘اور’’دِیَات ‘‘میں بھی ذکر فرمایا ہے اور امام مسلم نے کتاب الا یمان میں اور نسائی نے کتاب العلم میں اور ابن ما     جہ نے کتاب الفِتَن میں تحریر فرمایا ہے۔ (2)
{۲}مسلمان کے قتل کو حلال سمجھ کر کسی مسلمان کا خون کردینا کفر ہے اور مسلمان کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…حاشیۃ بخاری،کتاب العلم،باب الانصات للعلمائ،ج۱،ص۲۳
2…عمدۃ القاری،کتاب العلم،باب الانصات للعلمائ، الحدیث:۱۲۱، ج۲، ص۲۶۲۔۲۶۳