Brailvi Books

منتخب حدیثیں
134 - 243
النَّاسَ فَقَالَ:لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ (1)    (بخاری،باب الانصات للعلماء،ج۱،ص۲۳)
	ترجمہ :حضرت جریر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ ان سے حضور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے ’’حجۃ الوداع‘‘ میں فرمایا کہ’’تم لوگوں کو خاموش کرو‘‘ پھر حضور نے فرمایا کہ تم لوگ میرے بعد پلٹ کر کُفَّار مت ہوجانا کہ تمہارا بعض بعض کی گردن مارے۔
حضرت جریر: اِس حدیث کے راوی حضرت جریر بن عبد اللہ بَجَلی صحابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ یہ مشہور باکرامت محدث اَبو زُرْعہ کے دادا ہیں حضرت جریر بہت ہی خوبصورت اور دراز قد تھے ،اتنے لمبے تھے کہ اونٹ کی کوہان تک ان کا سر پہنچتا تھا اور ان کا جوتا ایک ہاتھ لمبا ہوتا تھا۔ (2)(قسطلانی،ج۱،ص۳۸۱)    ۱۰ھ؁ میں حجۃ الوداع سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ سے ایک سو حدیثیں مروی ہیں اور آپ کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔آپ کوفہ سے ’’قَرْقیس ‘‘چلے گئے تھے وہیں  ۵۱ھ؁ میں آپ کی رحلت ہوگئی۔ (3)(فیوض الباری،ج۱،ص۲۱۰و اکمال وغیرہ)
حجۃ الوداع: اِس حدیث میں ’’حجۃ الوداع‘‘ کا ذکر آیا ہے اس کی توضیح و تشریح یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے  ۱۰ھ؁ میں آخری حج فرمایا ،اس حج کو’’حجۃ الوداع‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ’’وَداع ‘‘کے معنی رُخصت کرنے کے ہیں چونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے اس حج میں تمام قبائل عرب کو اس طرح رخصت فرمایاجیسے کہ دنیا سے سفر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…صحیح البخاری،کتاب العلم،باب الانصات للعلمائ، الحدیث:۱۲۱، ج۱، ص۶۳
2…ارشادالساری،کتاب العلم،باب الانصات للعلمائ، تحت الحدیث: ۱۲۱،ج۱،ص۳۷۵
3…اکمال فی اسماء الرجال ، فصل فی الصحابۃ ، ص۵۸۹ (وفیہ ’’ قرقیسیا ‘‘ )
            وفیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب العلم،باب الانصات للعلمائ، ج۱، ص۳۶۷