میں لباس اور جنت کی پوشاک ملنے کا دارومدار نیک اَعمال ہی پر ہے تو جن عورتوں نے دنیا میں نیکیوں کا ذخیرہ نہیں جمع کیا اور اچھے اَعمال سے خالی ہاتھ آخرت میں گئیں تو بھلا انہیں آخرت میں کہاں سے لباس ملے گا اس لئے وہ دنیا میں تو اگرچہ قسم قسم کے لباسوں میں ملبوس رہی ہیں مگر آخرت میں بالکل ہی ننگی ہوں گی اس لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں خصوصی طور پر اپنی بیویوں اور دوسری عورتوں کو اَعمالِ صالحہ کی ترغیب دی تاکہ وہ دنیا میں خدا عزوجل کی عبادت کرکے آخرت کے لباس کا سامان کرلیں۔
مسائل ِحدیث: اِس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل پر روشنی پڑتی ہے۔
{۱} رات میں اپنے اَہل وعِیال کو خدا عزوجل کی عبادت کے لئے جگانا مستحب ہے خصوصًا ایسی صورت میں جبکہ کسی اہم واقعہ کا ظہور ہوا ہو۔
{۲}تعجب کے مواقع پر ’’سبحان اللہ‘‘کہنا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
{۳}رات میں بھی نیکیوں کا حکم دینا اور بُرائیوں سے منع کرنا اور لوگوں کو مسائل دین بتانا جائز ہے ۔ (1)
{۴}خاص کر اپنے اہل و عیال کو نصیحت کرنا اور ان کو ترغیب و ترہیب سنانا بھی جائز ہے۔
{۵}فقط عورتوں ہی کو وعظ سنانا بھی جائز ہے۔
{۶}اگر کسی شخص کوکسی فتنہ یا کسی خوشخبری کی اطلاع ہوجائے تو لوگوں کو اس سے آگاہ کردینا جائز ہے ۔واﷲ تعالیٰ اعلم۔
خُونِ ناحق
حدیث :۱۴
عَنْ جَرِیْرٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ لَہٗ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: اِسْتَنْصِتِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، ج۱، ص۳۶۲