مراد’’رحمتیں ‘‘ہیں اور بعض شارحینِ حدیث نے فرمایا کہ فتنوں سے مُراد آئندہ ہونے والے وہ فسادات اور لڑائیاں ہیں جو اس امت کے لئے باعث فتنہ ہیں جیسے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ،جنگ ِجَمَل،جنگ ِصِفِّیْن،جنگ ِحَرَّہ،جنگ ِکربلا وغیرہ جن سے بہت زیادہ فِتْنے پھیلے اور مسلمانوں کا بے حد جانی و مالی نقصان ہوا ۔ (1)(نو وی علی المسلم،ج ۲،ص ۳۸۹) اور خزانوں سے مراد وہ فتوحات ہیں جو خلفاء ِراشدین یا ان کے بعد آنے والے مسلم سلاطین کو حاصل ہوئیں کہ فارس و روم بلکہ یورپ و ایشیا کے خزانے مَفْتوح ہوکر اسلامی بیتُ المال میں پہنچ گئے ۔ واﷲتعالیٰ ا علم !
{۴}اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ’’حجرے والیوں‘‘یعنی اپنی ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہنکو جگانے کا حکم فرمایا تاکہ وہ اُٹھ کر نماز تَہَجُّد پڑھیں ۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ مُبارک طریقہ اور عادت ِکریمہ تھی کہ جب کوئی خوفناک منظر آپ دیکھتے تھے تو فوراً نماز میں مشغول ہوجاتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیتے تھے چونکہ اس وقت ازواجِ مُطَہَّرات ہی نظروں کے سامنے تھیں اس لئے آپ نے ان کو جگانے کا حکم دیا تاکہ خود بھی حضور عبادت میں مصروف ہوجائیں اور اُمت کی مائیں بھی خدا کی عبادت میں لگ جائیں۔
{۵}حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مقدس بیویوں کو عبادت کے لیے جگانے کا حکم دیا اور اس کا سبب یہ بتایا کہ بہت سی عورتیں جو اس دنیا میں قسم قسم کے لباسوں میں ملبوس نظر آتی ہیں قیامت کے دن نیکیوں اور اَعمالِ صالحہ سے ننگی ہوں گی (2)کیونکہ آخرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ارشادالساری،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، تحت الحدیث:۱۱۵،ج۱،ص۳۶۶
وشرح صحیح مسلم للنووی،کتاب الفتن واشراط الساعۃ، ج۲، ص۳۸۹
2…ارشادالساری،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، تحت الحدیث:۱۱۵، ج۱،ص۳۶۷