سَلَمَہ سے عقد فرماکر ان کو اُمَّہاتُ المؤمنین میں شامل فرمالیا۔۳۷۸ حدیثیں انہوں نے حضور سے روایت کی ہیں ۵۹ھ میں ۸۴ برس کی عمر پاکر مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنتُ الْبَقِیع میں مدفون ہوئیں۔(1) (اکمال وفیوض الباری وغیرہ)
فوائد حدیث:{۱}اس حدیث کو حضرت امام بخاری علیہ رحمۃ اللہ البار ی نے اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اَبواب میں بھی ذکر فرمایاہے :صلوۃ ُاللیل،علاماتُ النبوۃ، کتاب الادب، کتاب اللباس،کتاب الفِتَن اور امام ترمذی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اس حدیث کو صرف کتاب الفِتَن میں درج کیا ہے ۔(2)
{۲}خداوند ِعالَم جل جلالہنے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو آئندہ ہونے والے فتنوں اور فتوحات کے خزانوں کا خواب میں یا بیداری میں مشاہدہ کرایا اور آپ نے ان کی کثرت کو دیکھ کر تعجب کا اِظہار فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ سبحان اللہ! آج کی رات میں کس قدر زیادہ فتنے اور خزانے آسمان سے زمین پر اتارے گئے ۔
بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میں یوں بھی آیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے گھروں میں اس طرح فتنوں کو گرتے ہوئے دیکھ رہا ہو ں جس طرح بارش کے قطرات مسلسل اور لگاتار زمین پر گرتے ہیں۔ (3)
{۳}بخاری شریف کے حواشی میں ہے کہ فتنوں سے مُراد ’’عذاب ‘‘اور خزانوں سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال، حرف السین، فصل فی الصحابیات، ص۵۹۹
وفیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب العلم، باب العلم والعظۃ باللیل، ج۱،ص۳۶۱
وشرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ،فی ذکر ازواجہ الطاہرات۔۔۔الخ،ج۴،ص۳۹۷
2…عمدۃ القاری،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، تحت الحدیث: ۱۱۵،ج۲،ص۲۴۴
3…صحیح البخاری ،کتاب المظالم و الغصب ، باب الغرفۃ والعلیۃ المشرفۃ ۔۔۔الخ ،
الحدیث:۲۴۶۷، ج۲،ص۱۳۳