دنیا میں لباس اور آخرت میں ننگی
حدیث :۱۳
عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ اِسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَالَ سُبْحَانَ اﷲِ مَاذَا اُنْزِلَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الفِتَنِ وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ اَیْقِظُوْا صَوَاحِبَ الْحُجُرِ فَرُبَّ کَاسِیَۃٍ فِی الدُّنْیَا عَارِیَۃٌ فِی الْاٰخِرَۃِ (1) (بخاری،ج۱،باب العلم والعظۃ باللیل،ص۲۲)
ترجمہ:حضرت اُمّ ِسَلَمَہرضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ ایک رات حضور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا کہ سبحان اللہ ! اس رات میں کیسے کیسے فتنے اتارے گئے اور کیسے کیسے خزانے کھولے گئے ان حجرے والیوں کو (عبادت کے لئے ) جگاؤ کیونکہ بہت سی عورتیں دنیا میں لباس پہنے ہوئے ہیں مگر وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔
اُمِّ سَلَمہ:اِس حدیث کو روایت کرنے والی اُمُّ المؤمنین بی بی اُمّ ِسَلَمَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں اِن کا اصلی نام ’’ہِنْد ‘‘یا ’’رَمْلہ ‘‘ہے اور یہ ابو امیہ کی صاحبزادی ہیں۔یہ پہلے اَبو سَلَمَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی تھیں ،حضرت اَبو سَلَمَہ ان کو اور اپنے بچے کو ساتھ لے کر ہجرت کیلئے روانہ ہو نے لگے تو بی بی اُمّ ِ سَلَمَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان کے میکہ والوں نے روک لیا اور بچے کو حضرت اَبو سَلَمَہ کے خاندان والوں نے چھین لیا ۔حضرت اَبو سَلَمَہ بیوی بچے کو چھوڑ کر تنہا مدینہ چلے گئے ۔پھر کچھ دنوں کے بعد بی بی اُمّ ِسَلَمَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے بچے کو ہمراہ لے کر اکیلی ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ گئیں ۔حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب ۴ھ میں وفات پاگئے تو حضور ِاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بی بی اُمّ ِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، الحدیث:۱۱۵، ج۱،ص۶۱