لوگ جنہوں نے اپنی آنکھوں پر تَعَصُّب کی عینک لگا رکھی ہے اور عِناد و اِنکار اور بحث و تکرار کی آگ نے جن کے دل و دماغ میں فہم وبَصِیْرت کے آشیانوں کو جلا کر بھسم کردیا ہے ان کے سامنے لاکھ مرتبہ کسی حقیقت کے چہرے سے نِقاب کُشاءی کردیجئے مگر نہ وہ حق کو دیکھتے ہیں نہ حق کو سنتے ہیں نہ حق کا اعتراف کرتے ہیں ۔ایسے ہی لوگوں کے بارے میں قرآن مجید نے ارشاد فرمایا کہ
صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ (1)
کہ وہ بہرے ،گونگے اور اندھے ہیں ۔
اور کہیں یہ فرمایا کہ
لَا تَعْمَی الْاَبْصٰرُ وَلٰکِنۡ تَعْمَی الْقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾o (2)
یعنی سر کی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن ان کے سینوں میں چھپے ہوئے دل اندھے ہو جاتے ہیں ۔
یعنی آنکھوں کی بَصارت تو رہتی ہے مگر دلوں کی بَصِیرت ختم ہوجاتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
برائے قُوَّتِ حافِظہ
یَا عَلِیْمُ21بار پڑھ کر 40روز تک نہار منہ پئیں۔دوسرا بھی پڑھ کر
پلا سکتاہے۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ حافِظہ روشن ہوجائیگا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز الایمان:بہرے گونگے اندھے۔ (پ۱،البقرۃ:۱۸)
2…ترجمہء کنز الایمان:آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینو ں میں ہیں۔ (پ۱۷،الحج:۴۶)