تہمت نہ لگائیں گے{۶} کسی شرعی حکم کی نافرمانی نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ یہ سب وہ گناہِ کبیرہ ہیں جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ نبوت میں اتنے خوفناک اور بھیانک گناہ ہیں کہ خاص طور پراِن گناہوں سے بچنے پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام سے بذریعہ بیعت عہد لیا۔اسلیےہر مسلمان پر لازم ہے کہ اِن سب گناہوں کو جہنم کا دہکتا ہوا اَنگارہ سمجھ کر اِن سے دور بھاگتا رہے۔
پیری مُریدی: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کو چھوڑنے اور اعمالِ صالحہ کے کرنے پر بیعت لینی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سُنَّت ہے اور مشائخ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ’’بیعت ِ طریقت‘‘ در حقیقت اسی مقدس سنت پر عمل ہے۔ یہ حدیث در حقیقت ان منکرین تصوف کےلیےزبر دست تازیانہ عبرت ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ’’مشائخ کی پیری مُریدی بدعت ہے‘‘للہ! کوئی ان صاحبوں سے پوچھے کہ آخر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے جو گناہوں کے ترک کرنے پر بیعت لی اس میں اور پیرانِ کِبار کی بیعت میں کیا فرق ہے دونوں بیعتیں گناہوں کے چھوڑنے ہی پر ہیں ۔ پھر کیا و جہ ہے کہ پیرانِ کِبار کی بیعت بدعت قرار دی جائے گی؟ مگر بڑی مشکل تو یہ ہے کہ سمجھنا اور سمجھانا تو اس شخص کےلیےہوتا ہے جو سمجھنے کےلیےتیار بھی ہو یہ لوگ تو سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی نہ کچھ سمجھنے کو تیار ہیں نہ کچھ ماننے کو۔
مثل مشہور ہے کہ ’’سوتے کو جگانا بہت آسان ہے مگر جاگتے کو جگانا بہت مشکل ہے۔‘‘جاہل جو سادہ وَرْق کی طرح خالی ُالذہن ہوتا ہے اس کے سامنے اگر کوئی حقیقت اجاگر کردی جائے تو اس کا دل و دماغ بہت آسانی کے ساتھ اس حقیقت کی تصدیق اور اِعتراف کرلیتا ہے اور سچے دل سے اس کو مان لیتا ہے مگر وہ پڑھے لکھے