Brailvi Books

منتخب حدیثیں
127 - 243
  ’’بیعت ِعقبۂ اُولیٰ‘‘کے نام سے مشہور ہے ۔اُن بارہ اشخاص نے بیعت کرلینے کے بعد یہ خواہش ظاہر کی کہ احکام ِاسلام کی تعلیم کےلیےکوئی معلم اُن کے ساتھ مدینہ بھیج دیا جائے ۔چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  نے حضرت مُصْعَب بن عُمَیْر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اُن لوگوں کے ساتھ ہی مدینہ بھیج دیا۔
	پھر اِس سے اَگلے برس ستَّر یا    بہتّر حضرات مدینہ سے حج کےلیےآئے اور اُن سب لوگوں نے بھی منٰی کی اِسی گھاٹی میں  مشرف بہ اِسلام ہوکر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  سے بیعت کی،یہ بیعت تاریخ اسلام میں  ’’بیعت ِعقبہ ثانیہ ‘‘کہلاتی ہے۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے اُس گروہ میں  سے بارہ شخصوں کو نقیب (سردارِ قوم) منتخب فرمایا، نو اَشخاص قبیلہء َخز ْرج کے اور تین صاحبان قبیلہءاَوس کے۔اُنہی میں  سے ایک نَقِیْب حضرت عُبادَہ بن صامِت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ (1) اسیلیےراوی نے ان کے تعارف میں  یہ کہا کہ ’’ وَھُوَ اَحَدُ النُّقَبَاء لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ ‘‘   یعنی حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھاٹی کی رات میں  مُنْتَخب ہونے والے نَقِیبوں میں  سے ایک نَقِیْب ہیں  اور اسی رات کا نام تاریخ ِاِسلام میں  ’’      لیلۃ الْعَقَبہ        ‘‘ ہے ۔
شرحِ حدیث: اِس حدیث شریف کا مطلب ترجمہ ہی سے ظاہر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے حاضرین ِمجلس سے چھ چیزوں پر بیعت لی۔ اور صحابۂ کرام نے بیعت کرکے ان گناہوں  کے ترک کردینے کا سچا وعدہ اور ُمصَمَّم عَہْدکیا  {۱} شرک نہیں  کریں  گے{۲}چوری نہیں  کریں  گے{۳} زنا نہیں  کریں  گے {۴} اپنی اَوْلاد کو مفلسی کی و جہ سے یا لڑکیوں کو عار سمجھ کر قتل نہ کریں  گے{۵} کسی پر 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،ج۱، ص۱۹۴