تعارف میں یہ کہا کہ ’’وَکَانَ شَہِدَ بَدْراً ‘‘کہ یہ جنگ بدر میں شریک تھے ۔
نُقَباء:’’نقیب‘‘کی جمع ہے ۔اس کے معنی ہیں سردارِ قوم یا قوم کا ذمہ دار جس کو مُکھیَہ بھی کہتے ہیں ۔ (1)
لیلۃ ا لعَقَبہ: ا س لفظ کا ترجمہ ہے ’’گھاٹی کی رات‘‘مگر تاریخ ِاسلام میں یہ ایک تاریخی جگہ اور تاریخی رات کا نام ہے ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا یہ طریقہ تھا کہ ہر سال حج کے موقع پر آپ قباءل عرب کے سامنے دعوتِ اسلام پیش فرمایا کرتے تھے۔پہلے سال ’’منٰی‘‘ کی گھاٹی میں جہاں’’مسجد ا لعقبہ‘‘بنی ہوئی ہے مدینہ کے چھ شخصوں نے رات کی تاریکی میں چھپ کر اسلام قبول کیا ۔ان خوش نصیبوں کے نام یہ ہیں : {۱}ابو الہیثم بن تیہان {۲}اسد بن زُرارہ، جو ۱ ھ میں وفات پاگئے{۳} عوف بن حارث{۴}رافع بن مالک یہ جنگ احد ۳ھ میں شہادت سے سرفراز ہوئے {۵}قطبہ بن عامر یہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے {۶} جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
یہ صاحبان منٰی کی گھاٹی میں اِسلام قبول کرنے کے بعد اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے اور وہاں اِسلام کی تبلیغ کرنے لگے ۔دوسرے سال حج کے موسم میں بارہ آدمی مدینہ منورہ سے آئے اور اُن لوگوں نے بھی منٰی کی اِسی گھاٹی میں رات کے وقت حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست ِحق پرست پر بیعت کی اور اِسلام پر قائم رہنے کا عَہْد وپَیْمان کیا یہی وہ بیعت ہے جو سیرۃُالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخوں میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،ج۱، ص۱۹۴
وارشاد الساری،کتاب الایمان، باب علامۃ الایمان حب الانصار،تحت الحدیث:۱۸،
ج۱،ص۱۶۹