Brailvi Books

منتخب حدیثیں
125 - 243
  بہت نامی گرامی اَنصاری اور صحابی رسول ہیں ۔بہت ہی حسین و خوبصورت اور نہایت ہی قد آور ،قَوی ہیکل اور مضبوط بدن کے آدمی تھے۔عقبۂ اولیٰ ،عقبۂ ثانیہ،جنگ ِبدر، جنگ ِاُحُد، بیعۃُ الرضوان وغیرہ تمام مشاہد اور لڑاءیوںمیں  شریک ہوئے ۔سب سے پہلے فلسطین کے حاکم یہی بنائے گئے۔امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ان کو شام کا قاضی بھی بنادیا تھا۔یہ شہر حمص میں  مقیم ہوگئے تھے پھر فلسطین چلے آئے اور  ۳۴ھ؁میں  بمقام ’’رملہ ‘‘ بہتّر برس کی عمر پاکر وصال فرمایا ۔آپ نے ایک سو اکیاسی حدیثیں  روایت فرمائیی ہیں  ۔’’عبادہ‘‘نام کے بارہ صحابی ہیں  مگر’’عبادہ بن صامت‘‘ آپ کے سوا کسی صحابی کا نام نہیں  ہے ۔بخاری شریف میں  آپ کی روایت کی ہوئی حدیثوں کی تعداد کل نو ہیں ۔(1) (فیوض الباری،ج۱،ص۱۳۳ وقسطلانی،ج۱،ص۲۲۳)
توضیح الفاظ:حدیث مذکور کے چند الفاظ کی تشریح حسب ذیل ہے۔
بدر:مدینہ منورہ سے اَسی میل دور ایک گاؤں کا نام ہے ۔زمانہ جاہلیت میں  یہاں سالانہ ایک میلہ لگتا تھا ۔یہاں ایک کنواں تھا جس کو’’بدر‘‘ نام کے ایک شخص نے بنوایا تھا۔ چنانچہ اسی شخص کے نام پر اس گاؤں کا نام ’’بدر ‘‘رکھ دیا گیا۔(2)یہی وہ تاریخی مقام ہے جہاں ۱۷ رمضان    ۲ھ؁ میں  کفر و اسلام کا پہلا معرکہ ہو ا جو جنگ بدر کے نام سے مشہور ہے ۔اس جنگ میں  شریک ہونے والے صحابہ کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔ اسی اِعزاز کو ظاہر کرنے کےلیےراوی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان، ج۱، ص۲۰۰
            وارشاد الساری،کتاب الایمان،باب علامۃ الایمان حب الانصار، تحت الحدیث:۱۸، 
            ج۱،ص۱۶۹
2…فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،ج۱، ص۱۹۴