Brailvi Books

منتخب حدیثیں
122 - 243
 ہی معمولی زور لگا کرتمہیں  پچھاڑدیا تھا مگر آج میں  اپنی پوری طاقت لگانے کے باوجود تمہاری پیٹھ نہیں  لگا سکا بلکہ خود ہی چت ہوگیاآخر معاملہ کیا ہے ؟اُس وقت شیطان نے کہا کہ میاں جی ! ہوش کی دو ا کرو ۔ پہلی مرتبہ جو تم درخت کاٹنے چلے تھے تو صرف خدا کی رضا جوءی اور اخلاص کی نیت لے کر چلے تھے اس لیے میں  تم پر قابو نہیں  پاسکا تھا کیونکہ میں  ہمیشہ خدا کے مخلص بندوں ہی سے عاجز و لاچار رہتا ہوں  ۔مگر اب کی مرتبہ تم اخلاص کے ساتھ درخت کاٹنے کےلیےنہیں  چلے تھے بلکہ اس غصہ میں  چلے تھے کہ تم کومیں  نے اشرفی نہیں  دی تھی۔ سن لو!جب تک تمہارے اندر اخلاص کی طاقت کار فرما تھی میں  تم سے عاجز تھا اب جبکہ اخلاص کی طاقت سے تم محروم ہوگئے تو اب قیامت تک تم مجھ پر کبھی غلبہ نہیں  پاسکوگے۔ (1)
کفر آگ میں  جانے کے برابر: تیسری چیز جس پر ایمان کی لذت و حَلاوَت کا پایا جانا موقوف ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کفر سے اتنا ہی بیزار اور مُتَنَفِّر ہو جتنا کہ آگ کے شعلوںمیں ڈالے جانے سے بیزار و مُتَنَفِّر رہتا ہے ۔مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی انسان کبھی کسی حالت میں  بھی اس کو گوارا نہیں  کرسکتا کہ کوئی اس کو جلتی ہوئی آگ کے شعلوںمیں  جھونک دے اسی طرح کسی حالت میں  بھی ایک سچا مومن کفر کرنے کو کبھی ہرگز ہرگز گوارا کر ہی نہیں  سکتا۔کفر کرنا اور آگ میں  داخل ہونا دونوں اس کے نزدیک برابر ہوں ۔جب کسی مومن کو کفر سے اتنی نفرت اور بیزاری پیدا ہو جایئں تو اس کو حلاوت ِ ایمان کا مزہ نصیب ہو جایئں گا۔
	اللہ تعالیٰ ہر مومن کو حلاوتِ ایمان کی لذت سے لطف اندوز فرمائیے(آمین)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء علوم الدین،کتاب النیۃ والاخلاص والصدق، ج۵، ص۱۰۴،۱۰۵