Brailvi Books

منتخب حدیثیں
121 - 243
 ہوں  ۔شیطان نے کہا کہ میں  اُس درخت کا نگہبان ہوں  بھلا تمہاری مَجال ہے کہ تم اس درخت کو کاٹ سکوگے عابد جوشِ جہادمیں  شیطان سے لڑپڑا اور شیطان کو زمین پر پچھاڑ کر اس کے سینے پر سوار ہوگیا اور شیطان بالکل ہی عاجز و لاچار ہوگیا ۔جب شیطان ہار گیا تو عابد سے کہنے لگا: بھائی! میں  تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں  تم اس درخت کو مت کاٹو ،اس درخت کے کاٹنے سے تم کو کیا فایدہ ہوگا خواہ مخواہ تھک جاؤگے اور رات کو نمازِ تہجد بھی نہ پڑھ سکو گے،تم اس درخت کو کاٹنے کے خیال سے باز آجاؤمیں  اس کے بدلے میں  روزانہ تم کوایک اشرفی دیا کروں گا،خود بھی آرام سے کھانا پینا اور اس میں  سے فقراء اور مساکین کو صدقہ بھی دیتے رہنا اور انتہائیاطمینانِ قلب کے ساتھ خدا کی عبادت میں  مشغول رہنا۔عابد پر شیطان کا جادو چل گیا اور روزانہ ایک اشرفی کا نام سن کر اُس پر لالچ کا بھوت سوار ہوگیا۔ عابدنے وعدہ کرلیاکہ جاؤ میں  اب اس درخت کو نہیں کاٹو ں گا ۔چنانچہ چند دنوں تک تو شیطان عابد کے پاس روزانہ ایک اشرفی پہنچاتا رہا لیکن پھر ایک دم بند کردیا ۔جب کئ دنوں تک اشرفی نہیں  آئی تو عابد کو بڑا غصہ آیا کہ کم بخت شیطان نے مجھے دھوکہ دیا،پھر کلہاڑی اٹھائی کہ چل کر درخت کاٹ ڈالوں۔ چنانچہ گھر میں  سے نکلا ہی تھا کہ شیطان بصورتِ پہلوان سامنے آگیا اور راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔اور عابد سے کہنے لگا کہ خبر دار ! تم اس درخت کو کبھی ہرگز ہر گز نہیں  کاٹ سکتے۔عابدنے تڑپ کر کہا کہ میں  ضرور کاٹوں گا یہاںتک کہ دونوں ُگتھم گُتھَّا ہوگئے مگر اب کی مرتبہ شیطان نے اس زور سے عابد کو زمین پر دے مارا کے عابد کا سارا اَنجَر پَنجر ڈھیلا ہوگیا اور شیطان عابد کے سینے پر سوار ہوگیا ۔
	عابد لاچار ہو کر کہنے لگا کہ یار! میں  سمجھ نہیں  سکا کہ پہلے دن تو میں  نے بہت