Brailvi Books

منتخب حدیثیں
120 - 243
اور اگر ہم ابو جہل ،ابو لہب اور دوسرے کافروں یا منافقوں یا بد مذہبوں سے بغض رکھتے ہیں  تو اس لیے نہیں  کہ ان لوگوں نے ہم لوگوں کو مارا پیٹا ہے یا ہم لوگوں کا مال واسباب لوٹ لیا بلکہ ہم ان ظالموں سے صرف اس لیے دشمنی رکھتے ہیں  کہ یہ اللہ کے دشمن ہیں  ۔
	اللہ ہی کےلیےدوستی اور اللہ ہی کےلیےدشمنی ،اسی کا دوسرا نام اِخلاص ہے مومن کےلیےہر عمل میں  اخلاص و لِلّٰہیت کا جذبہ رکھنا یہ ایمان کی لذت پالینے کی دوسری شرط ہے اور یاد رکھئے کہ مومن کے جذبۂ اِخلاص کی وہ طاقت ہے کہ اس کی روحانی تواناءیوں کے مقابلہ میں  ہزاروںشیطانوں کی طاغوتی طاقتیں  لرزہ براَندام رہتی ہیں ۔ شیطان خود ہی خدا کے دربار سے یہ کہہ کر نکلاہے کہ 
اِلَّاعِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (1)o
یعنی اے اللہ! میں  قیامت تک اولادِ آدم کو گمراہ کرتا رہوں  گامگر تیرے اخلاص والے بندوں پر میرا جادو نہیں  چل سکے گا۔
حکایت: اللہ اکبر ! اِخلاص کی طاقت کا کیا کہنا ! بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ایک عابد کو پتہ چلا کہ فلاں جنگل میں  ایک درخت کو لوگ پوجتے ہیں ، عابد کو لوگوں کے اس شرک پر بڑا جلال اور بے حدغصہ آگیا ۔جوشِ جہاد سے سَرشار ہو کر عابد نے ایک کلہاڑی لی اور یہ عَزْم کرکے چل پڑا کہ میں  اس درخت کو جڑ سے کاٹ کراس شرک کی جڑ ہی کاٹ دوں گا۔ مگر ابھی چندہی قدم چلا تھا کہ شیطان ایک پہلوان کی شکل میں  سامنے آگیا اور کہنے لگاکہ کہاں چلے ؟عابد نے کہا کہ میں  جنگل میں  فلاں درخت کو کاٹنے کےلیےجارہا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہ کنز الایمان:مگر جو اُن میں تیرے چنے ہوئےے بندے ہیں۔  (پ۲۳،صٓ :۸۳)