Brailvi Books

منتخب حدیثیں
119 - 243
 جدوجہد اور پوری پوری کوشش کیجئے کہ آپ میں  یہ تینوں خصلتیں  پیدا ہوجایئں   تاکہ آپ ایمان کی مٹھاس یعنی ایمان کی لذت ِ خاص سے لطف اندوز ہوسکیں  ۔
اللہ و رسول کی محبت: اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا سارے عالَم سے بڑھ کر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ مومن کے دل کی گہراءیوں میں  اللہ و رسول کی محبت اس طرح گھر کر جائے اور اس قدر مضبوط و مستحکم ہو جایئں کہ اپنے آباء و اَجداد،اَزواج و اَولاد ،مکان ودکان، مال وسامان،جسم و جان یہاں تک کہ سارے جہان کو اللہ و رسول کی راہ میں  قربان کردینے کا سچا جذبہ پیدا ہو جا یئں ۔
	علا مہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا کہ رسول کی محبت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری میں  ایسی استقامت اور اوامرونواہی کی تعمیل میں  ایسا اِلْتِزام ہو کہ کسی حال میں  بھی جذبۂ استقامت اور جوشِ اِلْتِزام مُتَزَلْزَل نہ ہو۔ (1)
حُبٌّ فی اللہ :صوفیاء کرام نے فرمایا ہے کہ ’’حب فی اللہ‘‘اور ’’بغض للہ ‘‘یعنی اللہ ہی کےلیےدوستی اور اللہ ہی کےلیےدشمنی یہ تَصَوُّف کی جان ہے۔ایک مومن کے کامل ایمان کی یہ ایک بہت بڑی نشانی ہے کہ وہ اگر کسی سے دوستی کرتا ہے تو اپنی کسی غرضِ نفسانی کےلیےنہیں  بلکہ خالص رضائے الٰہی کےلیےدوستی کرتا ہے اور اگر وہ کسی سے دشمنی رکھتا ہے تومَحض اللہ کی رِضااور اس کی خوشْنودی کےلیےدشمنی رکھتاہے ۔مثلًا  ہم لوگ انبیاء، صِدِّیقین ،شہدا اور صالحین سے جو محبت رکھتے ہیں  تو اسلیےنہیں  کہ یہ لوگ ہما رے رشتہ دار ہیں  یا یہ لوگ ہما ری مالی امداد کرچکے ہیں  بلکہ صرف اس لیے ہم ان حضرات سے محبت کرتے ہیں  کہ یہ لوگ اللہ کے محبوب بندے ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی،الجزء الثانی،القسم الثانی، الباب الثانی فی لزوم محبتہ، 
            ص۲۴،مأخوذاً