ترجمہ:حضرت اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں جس شخص میں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پائے گا {۱} جس کو اللہ و رسول ان دونوں کے ماسوا (سارے جہان ) سے زیادہ مَحبوب ہوں ۔{۲} اور جو کسی آدمی سے خاص اللہ ہی کےلیےمحبت رکھتا ہو{۳} اور جو اسلام قبول کرنے کے بعد پھر کفر میں جانے کو اتنا ہی بُرا جانے جتنا آگ میں جھونک دءیے جانے کو بُرا جانتا ہے۔
شرحِ حدیث:اس حدیث کاحاصل مطلب یہ ہے کہ جس طرح’’شکر‘‘اور چیز ہے اور ’’شکرکی مٹھاس ‘‘اور چیز ہے اسی طرح ایمان اور چیز ہے ا ور ایمان کی لذت اور چیزہے۔جس شخص کے منہ کا ذائقہ بالکل درست ہو اگر وہ شکر کھائے گا تو اس کو شکر کی مٹھاس کا لُطف و مزہ بھی محسوس ہوگا لیکن اگر کوئی صَفْر اوی بخار کا مریض جس کے منہ کا ذائقہ بگڑ کر تلخ ہوچکا ہو اگر وہ شکر کھائے گا تو اس کو شکر کی مٹھاس محسوس نہیں ہوگی۔ ظاہر ہے کہ پہلا شخص تو شکر کھانے والا بھی کہلائےگا اور شکر کی لذت پانے والا بھی ہوگا اور دوسرا شخص اگرچہ شکر کھانے والاتو کہلائےگا مگر شکر کی مٹھاس کی لذت سے محروم ہوگا۔
بس بالکل یہی مثال ایمان کی ہے جوشخص کلمہ پڑھ کر مومن ہوگیا اور ایمان کے بعد اس میں تین خَصْلَتیں پیدا ہوگئیں تو وہ شخص ایمان کی مٹھاس یعنی ایمانی لذت کا لُطف و مزہ بھی پالے گااور جس شخص میں یہ تینوں خصلتیں نہیں پیدا ہوئیں تو وہ شخص اگرچہ صاحب ایمان تو ہوگامگر ایمان کی مٹھاس یعنی ایمان کی لذت خاص کے لطف و مزہ سے مَحروم رہے گا۔
وہ تین چیزیں جن پر ایمان کی مٹھاس اور لذت کا پایاجانا مَوقوف ہے وہ کون کون ہیں اب ان کی کچھ تفصیل ملاحظہ فرماءیے اور انتہائی جذبۂ اخلاص کے ساتھ انتہائی