اَحادِیث بھی وارد ہوئی ہیں ۔ مثلاًابو بکر نجار نے اپنی کتابُ السُّنن میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جوکوئی قبرستان میں گزرے اور گیارہ مرتبہ ’’ قل ہو اللّٰہ‘‘ پڑھ کر اس کا ثواب مُردوں کو بخش دے تو اللہ تعالیٰ اس قبرستان کے مُردوں کی تعداد میں اس کا ثواب عطا فرمائیےگا۔(1)
اسی طرح حضرت اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کیا ہے کہ جو قبرستان میں جائے اور سورۂ یٰسین پڑھ کر اس کا ثواب میّت کو پہنچائیے تو اللہ تعالیٰ اس میت کے عذاب میں تَخْفِیْف فرمائیےگا۔ (2)
اسی طرح حضرت امیر المؤمنین ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے والدین کی قبر کی زیارت کرے اور وہاں سورۂ یٰسین پڑھے تو اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائیےگا۔ (3)(فیوض الباری،ج۱،بحوالہ عینی،ج۱،ص۸۷۶)
سوال و جواب:کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو تو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دونوں قبروں کے مُردوں کو عذاب ہورہا ہے اس لیے ان دونوں کے عذاب کی تخفیف کےلیےگیلی ہری شاخوں کو ان کی قبروں میں گاڑدیالیکن ہم لوگو ں کو کیا معلوم کہ کون سی قبر والے کو عذاب ہورہا ہے اور کون سی قبر والے کو نہیں اس لیے ہم کیوں کسی قبر پر گیلی شاخ یا تازہ پھول اور ہری پتیاں ڈالیں ۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سبز پتیوں اور تازہ پھولوں کی تسبیحات سے جب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کشف الخفاء،الحدیث۲۶۲۹،ج۲،ص۲۵۲
2…مرقاۃ المفاتیح،کتاب الجناءز،باب دفن المیت،تحت الحدیث۷۱۷۱،ج۴،ص۱۹۸
3…فیوض الباری،کتاب الوضوء،باب من الکباءر ان لا یستتر من بولہ، ج۱،ص۴۹۸